بھارتی فوجی وردی میں بھیڑیے، اسرائیلی خاتون افسر کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بناڈالا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ممبئی (نیوز ڈیسک)بھارتی فوجی اسرائیلی خاتون افسر کو ہراساں کرتے پکڑے گئے, بھارت غیر ملکی خواتین کے لیے خطرناک ترین ملک قرار ،جنسی ہراسانی کا شکار اسرائیلی سارجنٹ، بھارت کا نیا شرمناک چہرہ بے نقاب۔
بھارتی فوجیوں کا اخلاقی دیوالیہ پن، اب عالمی سطح پر شرمندگی ،ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی، بھارت کی رسوائی بین الاقوامی سطح پر،اسرائیلی سفارت خانے کا شدید احتجاج، بھارتی فوج کی اخلاق باختگی بے نقاب ،خاتون افسر کی عزت پامال۔
بھارتی فوجیوں نے حیوانیت کی حد پار کی ،جنگی مشقوں میں بھارتی فوج کا شرمناک چہرہ آشکار،مودی سرکار کی خاموشی، کیا یہ جنسی جرائم کی سرپرستی ہے؟ عالمی امن کے دعوے، لیکن اپنی فوج کے ہاتھوں مہمان کی تذلیل؟بھارتی فوجیوں کا حوص پرستی کردار کو دنیا دیکھ رہی ہے، انصاف کون دے گا؟
بلوچستان میں دہشت گردی میں RAW کے ملوث ہونے کے چونکا دینے والے انکشافات
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔