Express News:
2026-06-03@03:13:44 GMT

خاتون آہن

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

کچھ عجیب سی صورت حال ہے، یہاں ہمارے صوبے کے پی کے عرف خیر پخیر میں یہاں جو خبریں…سوری… خبریں تو اب ہوتی نہیں ہیں ’’بیانات‘‘ ہوتے ہیں ، اس کے مطابق پنجاب کی وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز بہت ہی’’ مشکل‘‘ حالات میں ہیں، دکھی بھی ہیں، پنجاب حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، خزانہ خالی ہے، حکومت کے اوسان ٹھکانے نہیں ہیں ، آنکھوں سے آنسوؤں کے فوارے چھوٹ رہے ہیں جس طرح کارٹونوں میں بہتے ہیں یا بقول اقبال بانو۔

شکست حسن کے منتظر بھی ان آنکھوں نے دیکھے ہیں

 کوئی یوں سن رہا تھا رات مجھ سے میرا افسانہ

 کبھی شرمندہ شرمندہ کبھی نم دیدہ نم دیدہ

 لیکن ہم خیبرپختونحوا والے ان خبروں، بیانوں پرکیسے یقین کریں کیونکہ محترمہ مریم نواز تو اس وقت بھی ’’خاتون آہن ’’ بن کر کھڑی تھیں جب ان کے خاندان،حکومت ،گھر، پارٹی سب کچھ پر ’’شہاب ثاقب‘‘ گرا تھا اورچاروں طرف بلکہ شش جہات سے گولہ باری ہورہی تھی، وہ تب بھی نہ کانپی تھیں نہ لرزی تھیں اور نہ گھبرائی تھیں بلکہ ڈٹ کر کھڑی تھیں لہٰذا آج ایسا کیا ہوگیا ہے کہ اتنی شکستہ دل ہوگئی ہیں، گرفتہ دل ہوگئی ہیں،گھبرا گئی ہیں ۔

یہ موضوع ایسا ہے کہ جی تو چاہتا ہے کہ فوراً بیانات کے اس معمہ کو ہاتھ میں لے کر تحقیق کا ٹٹو دوڑائیں لیکن فاصلے بہت ہیں اورہم ٹھہرے بڈھے ضعیف ۔ اورہماری استطاعت ہم سے بھی ضعیف ہے جب کہ تحقیق کا ٹٹو بھی مارے مہنگائی کے پنجر پنجر ہورہا ہے ورنہ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں جاکر اصل صورت حال معلوم کرکے آتے کہ پنجاب ’’ماتم کدہ‘‘ کیوں بن گیا ہے اورہماری بدقسمتی سے ہمارے پاس وہ جام جم اورآئینہ جہاں نما بھی نہیں ہے جو خیبر پختونخوا کے معاونوں اورمشیروں کے پاس ہے جو نہ صرف ’’دوردرشن‘‘ ہیں بلکہ فیوچر درشن بھی ہیں اورسب سے بڑی بات یہ کہ ان کے ناموں کے ساتھ اتنی ڈگریاں اور القابات وخطابات ہیں تو بلاوجہ نہیں ہوں گے ۔

 پہلے صرف ایک ذریعہ تھا، علامہ ڈاکٹر پروفیسر، عالم کامل ماہرنجوم وفلکیات …اوراب یک نہ شد دوشد کہ خزانے کا معاون مشیر بھی اپنے بیانات کا تانگہ دوڑانے لگا بلکہ ’’سہ شد‘‘ کہیے کہ بڑے صاحب نے بھی چیلنج کردیا ہے کہ مجھ سا کوئی ہو تو سامنے آئے، ظاہر ہے کہ چیلنج پڑوس یعنی پنجاب کی طرف سے تھا، فرمایا،کوئی میرے جیسا وزیراعلیٰ بن کردکھائے ‘‘ لیکن کیاکریں ، ہمیں تو اپنی بے بسی اوربے سروسامانی نے وہ چیونٹی بنادیا ،جسے کسی نے پانی کے ایک برتن میں پتھر ڈال کر بٹھا دیا تھا۔کل ملا کر صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ہمارا تجربہ ، یقین اورمعلومات کچھ اورکہہ رہے ہیں اورصوبہ خیرپہ خیر کے چینلات اور اخبارات کے بیانات بلکہ بیانات کا اٹوٹ سلسلہ وار لگاتار اور موسلادھار کچھ اورکہہ رہا ہے۔

کہتے ہیں، افغانستان کے ایک بادشاہ کو ’’دلی‘‘ پر سخت غصہ تھا اور وہ چاہتا تھا کہ دلی کو تیمور اورنادرشاہ کی طرح ہلواڑہ کرکے تاریخ میں اپنانام رقم کرے لیکن بیچارے کو اپنے ریوڑ یعنی لمبے چوڑے ’’حرم‘‘ کی سرپرستی سے فرصت نہیں مل رہی تھی۔یہ بات ایک اسلحہ ساز کو پتہ چلی تو اس نے آکر’’ شاہ والا ‘‘کو بتایا کہ وہ ایک ایسی توپ تیار کر سکتا ہے جو یہیں سے دلی کی اینٹ سے اینٹ ، پتھر سے پتھر اورآدمی سے آدمی کو نیست ونابود کرسکتی ہے۔ اسے بادشاہ نے فوراً اپنا معاون خصوصی بناکر کام پر لگا دیا، اس نے جو سامان مانگا وہ فراہم کردیا اورمطلوبہ رقومات بھی حوالے کردیں کہ فوراً ایسی توپ بناکر ہماری خدمت میں پیش کرو تاکہ جلد ازجلد اس دلی کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔

اسلحہ ساز’’ لگے رہو منابھائی ہوگیا‘‘، آخر ایک مدت کے بعد اس نے اعلان کیا کہ توپ تیارہوگئی ہے ۔ بادشاہ نے ایک بڑے جشن کااہتمام کیا تاکہ توپ کامظاہرہ ہرخاص وعام دیکھ سکے ۔مقررہ دن پر ایک طرف شاہی خاندان، وزیران کرام، مشیرعظام اور معاونین دشنام بیٹھ گئے۔ میدان کے بیچ میں کئی ہاتھیوں کی مدد سے وہ عظیم الشان اور بھاری بھر کم توپ لائی گئی اور اسلحہ ساز نے ’’شاہ والا‘‘کی اجازت لے کر ایک خاص ’’ادا ‘‘ سے فیتے کو آگ دکھائی ، اچانک قیامت خیز دھماکا ہوا ،ہرطرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا ، ہاتھ کو ہاتھ تو کیا،آنکھ کو آنکھ بھی سجھائی نہیں دے رہی تھی ، ہرطرف قیامت کا شور، آخر کافی دیر بعد دھواں چھٹا تو توپ کا ساراملبہ ادھر ادھر بکھرا ہوا تھا، کچھ لوگ بھی زد میں آگئے تھے لیکن اسلحہ ساز بڑا ہوشیار تھا ، شاہ والا کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوکر بولا ، حضور پرنور ملاحظہ فرمائیے! جب یہاںیہ حال ہے تو دلی پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہوگی۔ جانتا تھا کہ نہ ٹیلی فون تھا، نہ تار، پیدل زمانہ تھا اوردلی سے جب کہیں چار پانچ مہینے بعد خبر آئے گی تو یہاں سے رفوچکر ہوچکا ہوں گا ۔

 ہماری بھی وہی حالت ہے نہ جام جم رکھتے ہیں، نہ آئینہ جہاں نما، تو کیسے بتائیں کہ وہاں مریم نواز حکومت کا ’’دلی‘‘ کس حال میں ہے ۔ اسلحہ سازوں نے جو کچھ کرنا تھا، وہ کرلیا اورکررہے ہیں کہ ان کاکام یہی ہے ،دراصل وہ اپنے صوبہ خیر پخیر کو بتیس چاند لگا چکے ہیں، ہرطرف امن وامان ، عدل وانصاف کا دوردورہ ہے ، شیر اوربکری منرل واٹر کی ایک بوتل میں اپنا اپنا اسٹرا ڈال کر پی رہے ہیں، بچے پارکوں میں چمڑے کی گیندوں کے بجائے لال وجواہر اورسونے کی گیندوں سے کرکٹ اور ہاکی کھیل رہے ہیں ، بلے اورہاکی سٹک چاندی کے ہیں ۔ دراصل ہمیں محترمہ مریم نواز سے ہمدردی اس لیے ہے کہ کسی زمانے میں ان کے والد میاں نواز شریف سے یاد اللہ تھی، وہ تو شاید بھول گئے ہوں کہ ان کے یاد رکھنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے لیکن ہمارے پاس صرف یادوں کے سوا اورکچھ ہے ہی نہیں ۔ چنانچہ صرف دعا ہی دے سکتے ہیں ،اﷲ محترمہ مریم نواز کو امان میں رکھے ، سارے دکھ درد دورہوں اورحاسدوں کی بدنظر، بدنیت اوربد گوئیوں سے بچائے رکھے ۔

 جو لوگ اپنا قد نہیں بڑھا سکتے وہ دوسروں کا قد گھٹانے میں لگ جاتے ہیں ۔

 ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محترمہ مریم نواز رہے ہیں

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود