WE News:
2026-07-24@05:35:07 GMT

کیا پینشنرز پر ٹیکس عائد ہونے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

کیا پینشنرز پر ٹیکس عائد ہونے والا ہے؟

پاکستانی معیشت کو گزشتہ چند سالوں سے سخت مشکلات کا سامنا ہے، آمدن سے زائد اخراجات اور پھر قرضوں کی واپسی، قرضوں پر سود کی ادائیگی، حکومتی اخراجات اور پھر سب سے بڑھ کر ریٹائرڈ ملازمین کو ماہانہ پینشن کی ادائیگی جیسے اخراجات معیشت کو سنبھلنے ہی نہیں دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب: سرکاری ملازمین کے لیے نئی پنشن پالیسی میں خاص کیا ہے؟

رواں سال کے بجٹ میں سول اور ملٹری پینشن کی ادائیگی کے لیے 882 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، تنخواہ وصول کرنے والوں سے تو حکومت ٹیکس وصول کر لیتی ہے تاہم پینشنرز سے ٹیکس وصولی کا کوئی نظام موجود نہیں، تاہم اب ایف بی آر پینشنرز سے بھی 5 فیصد تک ٹیکس وصول کرنے پر غور کر رہا ہے۔

وزارت خزانہ اور ایف بی آر اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں پینشنرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے، تجویز سامنے آ رہی ہے کہ ماہانہ ایک لاکھ سے زائد پینشن لینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے اور کم پینشن وصول کرنے والوں پر 2 فیصد جبکہ زیادہ پینشن وصول کرنے والوں سے 5 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:سری لنکا میں تنخواہوں اور پنشن کے لالے پڑ گئے

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ایف بی آر کو اپنی ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی ہو رہی ہے، اس لیے ایف بی آر غور کر رہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں مزید لوگوں کو شامل کیا جائے اور پہلے سے بھاری ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ درا طبقے پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ایک تجویز تو یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ ماہانہ 60 ہزار پینشن وصول کرنے والوں سے بھی 2 فیصد پینشن وصول کی جائے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں اس وقت ایسے ریٹائرڈ افسران بھی ہیں جن کی ماہانہ پینشن 5 لاکھ، 10 لاکھ، حتیٰ کہ 14 لاکھ روپے سے بھی زیادہ ہے۔

ریٹائرڈ ججز کی پینشن 10 سے 14 لاکھ روپے سے زائد ہے، 32 ایسے ریٹائرڈ جج ہیں کہ جن کی ماہانہ پینشن 10 سے 14 کے درمیان ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ، لاہور، سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ 6 چیف جسٹس ایسے ہیں کہ جن کی ماہانہ پینشن 16 لاکھ روپے سے بھی زائد ہے، 95 ریٹائرڈ افسران کی ماہانہ پینشن 5 لاکھ روپے سے زائد جبکہ 3 ہزار 81 ریٹائرڈ افسران ایسے ہیں کہ جن کی ماہانہ پینشن 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف بی آر پنشن پنشنر ٹیکس ججز سپریم کورٹ ہائیکورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ٹیکس سپریم کورٹ ہائیکورٹ جن کی ماہانہ پینشن وصول کرنے والوں لاکھ روپے سے پینشن وصول ٹیکس وصول ایف بی آر کیا جائے وصول کر سے بھی رہی ہے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف