لٹن روڈ ، داتا دربار اور کاہنہ میں 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سٹی42: لٹن روڈ، داتا دربار اور کاہنہ کے علاقوں میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایدھی ذرائع کے مطابق تینوں واقعات کی نوعیت مختلف ہے تاہم پولیس تحقیقات جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لٹن روڈ کے علاقے میں واقع میانی صاحب قبرستان سے 32 سالہ نامعلوم شخص کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔ ایدھی ترجمان کے مطابق متوفی کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
ادھر داتا دربار کے قریب بے ہوشی کی حالت میں ملنے والا 50 سالہ شخص دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ ترجمان کے مطابق متوفی کی شناخت عبدالغفور کے نام سے ہوئی ہے جو گوجرانوالہ کا رہائشی تھا۔
تیسرا واقعہ کاہنہ، گجومتہ چوک میں پیش آیا جہاں سے 35 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی۔ ایدھی ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر نشے سے موت واقع ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی وجہ موت کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہو گا۔
ایف سی انڈرپاس کے قریب تیز رفتار رکشہ اُلٹنے سے5افراد زخمی
پولیس نے تینوں واقعات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ لاشوں کی شناخت اور ورثاء کی تلاش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔