وزیراعظم کے منظور کردہ 10 سالہ بجلی توسیعی پلان کے اہم نکات سامنے آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے بجلی کے شعبے میں دور رس نتائج کے حامل توسیعی پلان کی منظوری کے بعد وزارت توانائی اور پاور ڈویژن نے منصوبے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس کے مطابق آئندہ دس سالوں میں بجلی کی پیداوار کے لیے کئی انقلابی اقدامات کیے جائیں گے۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس 10 سالہ بجلی توسیعی منصوبے میں مجموعی طور پر 7017 میگا واٹ کے نئے بجلی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن کی بروقت اور شفاف تکمیل سے نہ صرف ملکی توانائی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔ منصوبوں کی تکمیل کی تاریخوں میں ردوبدل سے 10 ارب ڈالر کی خطیر بچت ممکن ہوئی ہے، جبکہ 7967 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر مؤثر منصوبوں کو خارج کرکے مزید 7 ارب ڈالر کی بچت یقینی بنائی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس بار قابل تجدید ذرائع جیسے پن بجلی اور شمسی توانائی کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ ماحول دوست اور سستی بجلی صارفین تک پہنچ سکے۔ نئے منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور توقع ظاہر کی گئی ہے کہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوگی۔وزارت پاور کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے بھی مؤثر اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مستقبل کے بجلی منصوبے صارفین کی ضروریات اور توانائی طلب کے مطابق ترتیب دیے جائیں گے، جبکہ بجلی کی خریداری کم قیمت، شفافیت اور مسابقتی بنیادوں پر کی جائے گی۔
اس کے علاوہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مہنگے اور نان آپریٹنگ منصوبوں پر نظرثانی کی جائے گی اور ایسے منصوبے جن سے بجلی کی پیداوار نہیں ہو رہی، ان کی بجلی کی خریداری بند کر دی جائے گی، جس سے مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔وزارت توانائی نے اس پلان کو قومی مفاد میں ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے جو نہ صرف پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرے گا بلکہ مستقبل میں سستی اور مستحکم بجلی کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔