صوابی اور بنوں میں دہشتگردی کے واقعات، 3 اہلکار شہید، 5 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
تھانہ صوابی کی حدود جھنڈا چوکی پر نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کی، جبکہ بنوں میں کمپنی روڈ پر سی ٹی ڈی اہلکاروں پر حملے میں تین اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے اضلاع صوابی اور بنوں میں دہشتگردی کے دو مختلف واقعات پیش آئے۔ صوابی میں تھانہ صوابی کی حدود جھنڈا چوکی پر نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کی، جبکہ بنوں میں کمپنی روڈ پر سی ٹی ڈی اہلکاروں پر حملے میں تین اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔ ڈی پی او صوابی محمد اظہر خان کے مطابق نامعلوم افراد نے جھنڈا چوکی پر اچانک فائرنگ کی تاہم پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا۔ حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی جنگل کی طرف فرار ہو گئے۔
ڈی پی او کے مطابق علاقے میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن جاری ہے اور شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ بنوں کے علاقے ڈومیل میں کمپنی روڈ پر سی ٹی ڈی پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے تین اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے، فائرنگ کی زد میں آ کر تین شہری بھی زخمی ہوئے۔ شہداء اور زخمیوں کو فوری طور پر کے جی این ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسپانس کے طور پر بنوں پولیس کی اضافی نفری اور بکتر بند گاڑیاں روانہ کر دی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اہلکار شہید فائرنگ کی سی ٹی ڈی زخمی ہو ہو گئے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔