اسلام آباد:

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ  حکومت نے  معاشی اصلاحات سے افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پالیا ہے۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری  (او آئی سی سی آئی) کے عہدیداروں اور ممبران کے ساتھ زوم میٹنگ میں وزیر خزانہ نے حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر میٹنگ کے شرکا نے پائیدار ترقی پر زور، معاشی اصلاحات اور معاشی ترقی میں نجی شعبے کے رہنما کردار پر اتفاق کیا۔

ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے اور پائیدار، مستحکم و جامع ترقی کے لیے جاری عزم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معیشت کو مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے ٹیکس، توانائی، عوامی مالیات اور سرکاری اداروں سمیت اہم شعبوں میں جاری اصلاحات کا تذکرہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایسی معیشت تشکیل دینا ہے جو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

وزیر خزانہ نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت نہ صرف معاشی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ نجی شعبے کو ترقی کا اہم محرک بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ انہوں نے OICCI کی سفارشات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے بجٹ کی تیاری کے عمل میں ان پر غور کی یقین دہانی کرائی۔

میٹنگ میں او آئی سی سی آئی نے بین الاقوامی شراکت داروں سے حکومت کی مؤثر بات چیت اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور  ٹیکس بنیادوں کو وسعت دینے، ٹیکنالوجی و بین الادارتی رابطے کے ذریعے نظام کو مؤثر بنانے سمیت نجی شعبے کے ساتھ مستقل مشاورت کے فروغ کی سفارشات بھی پیش کیں۔

چیمبر کے عہدیداروں نے گزشتہ سال کے دوران بزنس کانفیڈنس سروے میں کاروباری ماحول سے متعلق مثبت رجحان سامنے آنے کا ذکر کیا۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ حالیہ معاشی بہتری سے آئندہ مہینوں میں سرمایہ کاری کے مزید بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔

 

ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندوں سے میٹنگ

وزیر خزانہ نے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندوں سے بھی زوم پر ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ترقی کے لیے حکومتی عزم کااعادہ کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے عالمی شراکت داروں کی حمایت حاصل ہے۔ حکومت کی کوششوں سے افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جب کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو جون تک 10.

6 تک پہنچ جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: معاشی اصلاحات انہوں نے نے کہا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان