وفاقی حکومت صنعتی زونزکوپرائیویٹ سیکٹر کےسپردکرنے کافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
شاہد سپرا: وفاقی حکومت نے ملک بھر کے صنعتی زونز کو مرحلہ وار طور پر نجی شعبے کے سپرد کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صنعتی زونزمیں بجلی کی سپلائی، بلنگ وریکوری کےتمام معاملات پرائیویٹ سیکٹر کے سپرد ہونگے،صنعتی صارفین کوبلزلیسکوکےجاری ہوں گے، تاہم ریکوری انڈسٹریل زون کیاکرےگی،اکنامک زونزوانڈسٹریل اسٹیٹس میں نیو کنکشن دینے کے اختیارات پرائیویٹ سیکٹر کے سپرد ہونگے۔
پرائیویٹ ہسپتال ،لیب،مارکیز سمیت11کیٹگریزکوٹیکس نیٹ میں شامل کرنیکافیصلہ
پرائیویٹ ایجنٹ کنکشن لگانے کے بعد لیسکو کو آگاہ کرے گا،لیسکو پرائیویٹ سیکٹر کو بلک سپلائی کی بنیاد پر بجلی فراہم کرے گی،لیسکو سمیت دیگر کمپنیوں اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان او اینڈ ایم ایگریمنٹ ہو گا،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے آپریشنز اینڈ مینٹی ننس معاہدے کیلئے نیپرا میں درخواستیں دائر کر دیں۔
نیپرا نے او اینڈ ایم ایگریمنٹ پر سٹیک ہولڈرز سے 15روز میں تجاویز طلب کر لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔