دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ میں اضافہ، 40 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2025ء)دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ میں اضافہ، گزشتہ 40 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔سویڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں اسلحے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یوکرین اور غزہ جنگ کے باعث دنیا بھر میں اسلحے کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے، جوکہ 2024 میں سالانہ 9.
(جاری ہے)
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ دنیا بھر میں عسکری بجٹ کے لحاظ سے چین دوسرے نمبر ہے، چین نے امریکہ کے مقابلے میں 314 ارب ڈالر خرچ کیے جو امریکی بجٹ کا ایک تہائی بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق فوجی بجٹ میں سب سے زیادہ اضافہ اسرائیل نے کیا،2023 میں غزہ پر حملے کے بعد سے اسرائیلی فوجی بجٹ میں 65 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے جرمنی چوتھے نمبر پر ہے، جرمنی نے اپنے دفاعی اخراجات میں 28 فیصد کا اضافہ کیا، جبکہ رومانیہ کے دفاعی بجٹ میں 43، ہالینڈ 35 اور سویڈن کے بجٹ میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق جمہوریہ چیک نے 32 اور پولینڈ نے 31 فیصد کا اضافہ کیا، جبکہ ڈنمارک 20، ناروے 17 فن لینڈ 16، ترکی 12 اور یونان کے دفاعی بجٹ میں 11 فیصد کا اضافہ ہوا۔نیٹو کے دیگر ممالک 2024 میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ 40 ممالک میں شامل رہیں ہیں، 1952 کے بعد سے جاپان نے بھی اپنے بجٹ میں 21 فیصد کا تاریخی اضافہ کیا ہے، جاپان اب اپنے جی ڈی پی کا14 فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے، بھارت نے دفاع پر 86.1 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، ایک دہائی کے دوران بھارت کی دفاعی بجٹ میں 42 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان دفاعی اخراجات کے لحاظ سے 29 ویں نمبر پر ہے، جبکہ پاکستان نے 2024 میں دفاع پر 10.2 ارب ڈالر خرچ کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ارب ڈالر خرچ کیے رپورٹ کے مطابق دفاعی اخراجات بجٹ کے لحاظ سے فیصد کا اضافہ دنیا بھر میں رپورٹ میں اضافہ ہوا دفاعی بجٹ ہے رپورٹ کے دفاعی
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔