وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا چینل بھارت میں بند کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت میں پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا چینل بند کردیے گئے۔
بھارت کی شکایت پر وزیراعظم کے سوشل میڈیا چینل سے کاکول میں ان کے خطاب کی ویڈیو بھی ہٹادی گئی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔
بابر اعظم اور محمد رضوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارت میں بند کردیے گئےاس سے قبل پاکستان کے اولمپک جیولن تھرو چیمپئن ارشد ندیم کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی بھارت میں بلاک کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کے معروف انگریزی روزنامے دی نیوز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جیو نیوز کے خصوصی سیگمنٹ سچویشن روم کے اینکر مبشر ہاشمی، اداکار فواد خان اور پی ایس ایل کی فرنچائز لاہور قلندرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت میں بند کردیے گئے.
اس سے پہلے بھارت میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقبول ترین پاکستانی نیوز چینل ’’جیو نیوز‘‘ جیو گروپ کے دو مزید چینلز ’’ہنسنا منع ہے‘‘ اور ’’جیو سوپر‘‘ کو بھی ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر بند کیا جا چکا ہے۔
ماہرہ خان اور ہانیہ عامر سمیت کئی پاکستانی فن کاروں اور ایتھلیٹ ارشد ندیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت میں بند کیے جاچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بند بند کردیے گئے
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔