بھارت میں پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا چینل بند کردیے گئے۔

بھارت کی شکایت پر وزیراعظم کے سوشل میڈیا چینل سے کاکول میں ان کے خطاب کی ویڈیو بھی ہٹادی گئی۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔

بابر اعظم اور محمد رضوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارت میں بند کردیے گئے

اس سے قبل پاکستان کے اولمپک جیولن تھرو چیمپئن ارشد ندیم کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی بھارت میں بلاک کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامے دی نیوز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جیو نیوز کے خصوصی سیگمنٹ سچویشن روم کے اینکر مبشر ہاشمی، اداکار فواد خان اور پی ایس ایل کی فرنچائز لاہور قلندرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت میں بند کردیے گئے.

اس سے پہلے بھارت میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقبول ترین پاکستانی نیوز چینل ’’جیو نیوز‘‘ جیو گروپ کے دو مزید چینلز ’’ہنسنا منع ہے‘‘ اور ’’جیو سوپر‘‘ کو بھی ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر بند کیا جا چکا ہے۔

ماہرہ خان اور ہانیہ عامر سمیت کئی پاکستانی فن کاروں اور ایتھلیٹ ارشد ندیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت میں بند کیے جاچکے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بند بند کردیے گئے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری