پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھارتی میڈیا کی جانب سے ان سے منسوب کی گئی جعلی سوشل میڈیا پوسٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔

چند روز قبل ایک انسٹاگرام پوسٹ، جس میں پہلگام حملے پر پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کیا گیا تھا، ہانیہ عامر کے نام سے وائرل ہوئی۔

اس جھوٹی پوسٹ میں حساس الزامات عائد کیے گئے جن میں پاک فوج، پاکستانی عوام اور مذہبی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی اس جعلی پوسٹ نے نہ صرف پاکستانی عوام کو تشویش میں مبتلا کیا بلکہ بھارتی مداحوں میں بھی غلط فہمی پیدا کی۔

تاہم اداکارہ ہانیہ عامر نے اس سازش کا بروقت نوٹس لیتے ہوئے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک اسٹوری میں تمام الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا:

”میرے نام سے منسوب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا بیان مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ نہ تو میرے خیالات کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی میں ایسی کسی نفرت انگیز بات کی تائید کرتی ہوں۔“

اداکارہ نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات انتہائی حساس ہیں اور کسی بھی قسم کی سیاسی بیان بازی یا نفرت انگیز تبصرے معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:

”یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ ہمدردی، انصاف اور شفاء کی طرف بڑھنے کا ہے۔ ہمیں محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا اور تصدیق شدہ معلومات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔“

ہانیہ عامر نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کسی بھی خبر یا بیان کی سچائی کی تصدیق کیے بغیر اس پر یقین نہ کریں۔

اداکارہ نے پہلگام واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس ہے اور ان کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، تاہم اس سانحے کو بنیاد بنا کر پاکستان یا کسی مخصوص گروہ کو بغیر ثبوت الزام دینا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔

یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے نتیجے میں 26 بھارتی سیاح مارے گئے تھے، جس کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر کسی تحقیق کے الزام پاکستان پر عائد کیا گیا۔ اس کے بعد متعدد پاکستانی فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیاں بھی لگائی گئیں۔

اداکارہ کی بروقت وضاحت نے نہ صرف ان کے مداحوں کو مطمئن کیا بلکہ بھارتی میڈیا کی منفی مہم کو بھی بے نقاب کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر بھارتی میڈیا

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل