کسی بھی جارحیت کیخلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے، چین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
چینی صدر کے سابق معاون ڈاکٹر وکٹر گاؤ کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کی غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، کسی بھی جارحیت کوروکنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چینی قیادت نے پہلگام واقعے پر پاکستانی موقف کی حمایت کردی۔ چینی صدر کے سابق معاون ڈاکٹر وکٹر گاؤ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سالمیت کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں۔ کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پہلگام واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات ضروری ہیں، کسی بھی جارحیت کو روکنا وقت کی ضرورت ہے۔ بھارت کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر چین کا پاکستانی مؤقف کی حمایت میں بڑا بیان آ گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پہلگام آپریشن پرشفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، چینی سفیر نے پاکستانی موقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ چینی صدر کے سابق معاون ڈاکٹر وکٹر گاؤ کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کی غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، کسی بھی جارحیت کوروکنا وقت کی ضرورت ہے۔ کسی بھی جارحیت کے خلاف چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ڈاکٹروکٹر گاؤ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین پاکستان کی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر سطح پر پرعزم ہے۔ دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ پہلگام فالس فلیگ پر تحقیقات ضروری ہیں، دیگر ممالک بھی بھارت سے الزام تراشی کی بجائے تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحقیقات ضروری ہیں کسی بھی جارحیت کہنا ہے کہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔