بیجنگ :چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین نے دیکھا ہے کہ اعلی امریکی حکام نے بار ہا کہا ہے کہ  وہ ٹیرف کے معاملے پر چین کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے حال ہی میں چین کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے  متعدد مواقع پر متعلقہ فریقوں کے ذریعے چین کو پیغام پہنچانے میں پہل کی ہے۔ جس کا چین جائزہ لے رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔اگر وہ لڑنا چاہتا ہے ،تو چین آخری لمحے تک لڑے گا؛ اگربات کرنا چاہتا ہے،تو چین کا دروازہ کھلا ہے.

محصولات اور تجارت کی جنگ امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کی گئی تھی اور اگر امریکہ چاہے تو مذاکرات میں اپنے خلوص کا مظاہرہ کرے اور اپنے غلط طریقوں کو درست کرنے اور یکطرفہ محصولات کو ختم کرنے جیسے معاملات پر عملی مظاہرہ کرنے کیلئے تیار رہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ امریکہ  حال ہی میں ٹیرف اقدامات کو ایڈجسٹ کرنے کا پیغام دینے کی کوشش کر رہا  ہے۔ چین اس بات پر زور دینا چاہتا ہے کہ اگر امریکہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات یا بات چیت میں اپنے غلط یکطرفہ محصولات کے اقدامات کو درست نہیں کرتا ہے تو اس سے ظاہر ہوگا کہ امریکی فریق مکمل طور پر غیر سنجیدہ ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید نقصان پہنچے گا۔  کہنا  کچھ اور کرنا  کچھ  ، یہاں تک کہ مذاکرات کی آڑ میں جبر اور بلیک میلنگ  کی کوشش کرنا چین کے ساتھ تعلقات  نمٹنے کا طریقہ نہیں ہے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟