دبئی کی فوجداری عدالت نے معروف بھارتی بزنس مین بلوندر ساہنی المعروف ابو صباح کو 5 سال قید، 5 لاکھ درہم جرمانہ اور سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدری کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ ہونے پر ان کے 15 کروڑ درہم کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔

کیس میں کل 33 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں ابو صباح کا بیٹا بھی شامل ہے۔ عدالت نے 11 ملزمان کو غیر حاضری میں 5 سال قید اور 5 لاکھ درہم جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ 10 دیگر افراد کو ایک سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانہ کیا گیا۔

عدالت نے جرم میں ملوث 3 کمپنیوں کو بھی 5،5 ملین درہم جرمانے کیے اور ان کے تمام مشکوک اثاثے، الیکٹرانک آلات، موبائل فونز اور دستاویزات ضبط کرنے کا حکم دیا۔ تمام مجرموں کو سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:منی لانڈرنگ کا الزام، شلپا شیٹی کے گھر چھاپہ، اداکارہ کا کیا موقف ہے؟

یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب دبئی پولیس کو ایک خفیہ رپورٹ موصول ہوئی۔ 18 دسمبر 2024 کو پراسیکیوشن نے کیس عدالت میں پیش کیا اور 9 جنوری 2025 کو پہلی سماعت ہوئی۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ ملزمان نے جعلی کمپنیوں اور مشکوک مالی لین دین کے ذریعے ایک مربوط منی لانڈرنگ نیٹ ورک تشکیل دیا تھا۔

ابو صباح ایک معروف ریئل اسٹیٹ کمپنی کے مالک ہیں، جس کی شاخیں امریکا، بھارت اور متحدہ عرب امارات میں قائم ہیں۔ 2016 میں انہوں نے 33 ملین درہم کی خطیر رقم سے گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ “5” خرید کر شہرت حاصل کی تھی۔

عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات منی لانڈرنگ اور مالیاتی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملک کے مالیاتی نظام کی شفافیت اور حفاظت کو ہر حال میں یقینی بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ابو صباح بلوندر ساہبی بھارتی بزنس مین دبئی منی لانڈرنگ منی لانڈرنگ کیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوندر ساہبی بھارتی بزنس مین منی لانڈرنگ منی لانڈرنگ کیس منی لانڈرنگ عدالت نے سال قید

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم