امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت نے حملہ کیا تو 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ خطرناک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔

رضوان سعید شیخ نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد پاک بھارت سرحدوں پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، بھارتی حکومت اور میڈیا پر اس وقت جنگی جنون سوار ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت کو پہلگام حملے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔

ہم امن کے خواہاں ہیں اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے: سفیر پاکستان

کسی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو بھرپورقوت سےجواب دیں گے، سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اقدام کریں، مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر میں اپنی انتظامی کوتاہیوں کو دور کرنے کے بجائے سرحدوں سے باہر کیوں دیکھ رہا ہے، پاکستان بھارت کی جانب سے پانی بند کرنے کو جنگی اقدام تصور کرے گا۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ ہم خطے میں عدم استحکام کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہم ایک پُرامن پڑوس چاہتے ہیں، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ نے نے کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا