مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاونٹرز،بھارت کا نیا منصوبہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سرینگر(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی فوج نے غیر قانونی اور جبری طور پر حراست میں رکھے گئے پاکستانیوں کو فیک انکاونٹرز میں استعمال کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔
نجی ٹی وی جیونیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 56 پاکستانی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی، جبراً حراست میں ہیں، بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں پاکستانیوں کو فیک انکاونٹرز میں مارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ مختلف جیلوں میں رکھے جانے والے ان افراد کو مارنے کے بعد پاکستان کی طرف سے سرحد پار دہشت گرد قرار دیا جائے گا، بھارتی میڈیا کو ان افراد کی لاشیں اور پلانٹڈ ہتھیار وغیرہ کی ویڈیوز اور تصویریں شیئر کی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا روایتی طریقے سے ان افراد کو پاکستان سے آنے والے دہشت گرد ظاہر کرے گا، چند افراد سے میڈیا کے سامنے پاکستان مخالف بیانات، اعتراف جرم کے بیان بھی دلوائے جا سکتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل مختلف بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید پاکستانیوں کی تفصیلات بتا چکے ہیں۔خیال رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر بھارت کے فالس فلیگ آپریشن میں 22 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر بغیر شواہد کے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کئے جس کا پاکستانی حکومت اور آرمی کی جانب سے بھرپور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے تاہم پاکستان نے بھارت سمیت پوری دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی یا پاکستان کی ملکیت میں آنے والے پانی کو روکا تو ایسی طاقت سے جواب دیا جائے گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔
کیا واقعی پاکستان کا ایف 16 طیارہ چوری ہوگیا؟ بھارتیوں کا ایسا مضحکہ خیز دعویٰ کہ ہر کوئی ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔