Express News:
2026-06-03@08:08:31 GMT

تجاوزات، اختیارات اور ہمارے ادارے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

تجاوزات کے لفظی معنی ناجائز قبضہ یا اپنی زمین کی حدود سے بڑھ کر دوسرے فریق کی زمین میں داخل ہونے کو کہتے ہیں۔ آپ اگر آج کے پاکستان کو دیکھیں تو اب ہم تجاوزات کے ساتھ ناجائز کا اضافہ کردیتے ہیں۔ راقم نے بہت کوشش کی کہ جائز تجاوزات اور ناجائز تجاوزات میں فرق تلاش کرسکے لیکن ناکام رہا! تجاوزات زمین پر ہوں یا اختیارات میں ہوں، نتائج بہت ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔


آج وطن عزیز میں قوانین کی علمبرداری کمزور ہونے کی وجہ سے تجاوزات کا جن بے قابو ہوچکا ہے اور ہمارے معاشرے کے تقریباً ہر ادارے کے سر پر ہتھوڑے برسا رہا ہے۔ ایک پائیدار اور مضبوط ریاست کا انحصار اس کے اداروں کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے ان تمام ممالک کی فہرست بنائیں جہاں مسلسل ترقی ہو رہی ہے تو آپ کو ان تمام ممالک میں ایک قدر مشترک نظر آئے گی کہ ان کے ریاستی ادارے مضبو ط، فعال اور قابل اعتماد ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں ہر برائی کی جڑ اور گناہ کا ذمے دار ریاستی اداروں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر ریاست چار ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے یعنی مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور صحافت۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کسی بھی ملک کو اس وقت تک عزت و وقار سے دیکھتی ہے جب تک اُس ملک کے ریاستی ادارے عزت و وقار کے حامل ہوں۔

اداروں کی عزت و وقار کا بالواسطہ تعلق عوام کی خوشحالی سے ہے، اگر کسی بھی ملک کے عوام کا اعتماد اپنے اداروں پر ہے تو یقیناً وہ ملک بہت مضبوط اور محفوظ ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہر ادارہ ہدفِ تنقید ہے، میری دانست میں وجہ صرف تجاوزات ہے۔ پاکستان میں اس وقت شاید ہی کوئی سڑک، پارک، زمین، ہاؤسنگ سوسائٹی یا ادارہ بچا ہو جس پر تجاوازات قائم نہ کی گئی ہوں۔ آج کی مہذب دنیا میں جہاں انصاف اور اخلاقیات موجود ہیں وہاں آپ اُن کی سڑکوں کا جائزہ لے لیں آپ کو اُن کا پورا نظام سمجھ میں آجائے گا۔ اگر سڑکیں تجاوزات سے پاک ہیں، ٹریفک بے ہنگم نہیں چل رہا اور لوگ تمیز سے گاڑیاں چلا رہے ہیں تو آپ سمجھ لیں کہ ریاست کے چاروں ستون مضبوطی سے ریاست کو تھامے ہوئے ہیں۔

دنیا آپ کو کس نظر سے دیکھتی ہے اُس کی ایک مثال آپ اپنے ملک کے پاسپورٹ کی وقعت سے اخذ کرسکتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت بہت بہتر تھی اور درجہ بندی کی فہرست میں دنیا کے 30 اہم ممالک میں شامل تھا۔ ہمارے اداروں کی مسلسل ناکام حکمت عملی کی وجہ سے آج پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی پر نظر رکھنے والے ادارے (Henley Passport Index-HPI) کی رپورٹ کے مطابق 106 ممالک کی فہرست میں پاکستان 102 ویں نمبر پر براجمان ہے۔

مقننہ ریاست کا وہ پہلا ستون ہے جس نے ملک کی مضبوطی کےلیے اہم قانون سازی کرنی ہوتی ہے، لیکن آپ ذرا 1947 سے لے کر آج تک بغور جائزہ لیں تو اپ کو ہرمنتخب وزیراعظم دوسرے اداروں کی مداخلت کا رونا روتا ہوا نظر آئے گا۔ تصویر کا دوسرا اور انتہائی مکروہ رخ یہ ہے کہ آج عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ہماری اسمبلیاں قانون سازی صرف اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کےلیے کرتی ہیں۔

عدلیہ جو کہ ریاست کا دوسرا اہم ترین ستون ہے اور اِسے جس انداز سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کا دوسرے معاشرے میں سوچنا بھی محال ہے۔ اس سے بڑی بدقسمتی اس ملک کی کیا ہوگی کہ آج معزز عدلیہ کے فیصلوں کو معاشرے کا ایک بہت بڑا طبقہ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس معاشرے میں بلا تفریق عدل و انصاف ہو رہا ہو اُس معاشرے کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

جسٹس محمد منیر کے ’’ نظریہ ضرورت‘‘ سے لے کر جسٹس قاضی فائز عیسی کے ’’نظریہ مخالفت برائے مخالفت‘‘ نے عدلیہ کے وقار کو کافی ٹھیس پہنچائی کہ جس کے اثرات آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں نیک نام منصفین انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق انصاف کی فراہمی میں پاکستان 142 ممالک کی فہرست میں 130 ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے ہاں انصاف کے حصول کا سفر نسلوں پر محیط ہوتا ہے اور ایک پوری نسل انصاف کےلیے دربدر ہونے کے بعد عدالتی کارروائیوں پر مشتمل فائلوں کا پلندہ اپنی نئی نسل کے حوالے کرجاتی ہے۔ عدالتی نظام سے جڑے ہوئے لوگ اب کھل کر عدلیہ میں بھی تجاوزات یعنی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

انتظامیہ بھی ریاست کا ایک بہت ہی اہم جز ہے لیکن قابلیت اور اہلیت کے ساتھ کھلواڑ نے اس ادارے کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ آج ایک عام پاکستانی انتظامیہ کو انتہائی منفی انداز میں دیکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ میں اکثریت اب صرف نوکری کررہے ہیں یا شاید وقت گزار رہے ہیں جبکہ انتظامیہ میں بیٹھی اکثریت اعلیٰ عدلیہ اور سیاسی مداخلت کو اپنے کام میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پچھلے 77 سال میں انتظامیہ کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ملک آج 21 ویں صدی کے جدید طور طریقے استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ ہم آج بھی 18 ویں صدی میں رہنے پر بضد ہیں۔

آج کی دنیا میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے جس کا کام سماجی، معاشرتی، سیاسی یا قومی سطح پر مسائل کی نشاندہی اور اُس کے خلاف آواز اٹھانا ہوتا ہے۔ صحافت نے پاکستان کے قیام سے آج تک بہت اُتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ 80 کی دہائی میں صحافت اور صحافیوں کی مشکلات آج بھی تاریخ کا تاریک حصہ ہیں۔ پاکستان پہ مسلط دہشت گردی کی جنگ میں جس طرح میڈیا نے لوگوں میں شعور پیدا کیا اور رائے عامہ ہموار کی، اُس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن جس طرح ریاست کے دوسرے ستونوں میں تجاوزات کی بھرمار ہے بالکل اسی طرح یہ ادارہ بھی کچھ ایسے نام نہاد صحافیوں اور گھس بیھٹیوں سے محفوظ نہیں جن کا کام صرف شر پھیلانا اور بیرونی اور علاقائی آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔

سوشل پلیٹ فارم آج ایک ایسا طاقتور میڈیا بن کر سامنے آیا ہے کہ جس نے اشرافیہ کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انتہائی مکاری سے اس میڈیا کے ذریعے ریاست کے چاروں ستونوں کے خلاف بدظن کیا جارہا ہے۔ آج کی دنیا ہماری عزت صرف اس لیے نہیں کر رہی ہے کیونکہ ریاست کا ہر ستون لڑکھڑا رہا ہے یا یوں کہیے کہ کوئی بھی ادارہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آج کے حالات یہ ہوگئے ہیں کہ کوئی بھی عام شخص کسی بھی ریاستی ستون کو قابل فخر نہیں سمجھتا۔

کمپیوٹر سائنس کی فیلڈ میں ایک محاورہ استعمال کیا جاتا ہے کہ "GiGo-Garbage in, Garbage out" یعنی اگر ہم کسی سسٹم میں غلط کوائف کا اندراج کریں گے تو لامحالہ ہمیں اس کا غلط نتیجہ ہی ملے گا۔پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں ہم مسلسل غلط کوائف کا اندراج کئے چلے جارہے ہیں کہ جس کے نتائج آج پورا معاشرہ جھیل رہا ہے۔ کسی بھی ریاست کو اپاہج کرنے کےلیے یہ کافی ہے کہ آپ اُس کے ریاستی اداروں میں تجاوزات یعنی غلط کوائف کے اندراج کو رسی بنا کر اُس کا گلا گھونٹ دیں اور پھر بتدریج اُسے مرنے کےلیے چھوڑ دیں۔ بحیثیت قوم ہمارے اخلاقی انحطاط کی عکاسی جون ایلیا کا یہ شعر بخوبی کرتا ہے:

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اداروں کی کی فہرست ریاست کا جاتا ہے کسی بھی رہے ہیں ہے کہ ا رہا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد