الیکٹرک وہیکلز سیکٹر کا فروغ پنجاب حکومت کی پہلی ترجیح ہے، شافع حسین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
چوہدری شافع حسین--فائل فوٹو
وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت اور سازگار ماحول موجود ہے۔
صوبائی وزیر شافع حسین سے جاپان کے سرمایہ کار گروپ کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔
جاپانی سرمایہ کار گروپ نے پنجاب میں پہلے مرحلے میں لیتھیئم بیٹریز کا اسمبلنگ پلانٹ اور دوسرے مرحلے میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کا اعلان کیا۔
چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ علما بورڈ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مواد پر بھی نظر رکھے۔
اس موقع پر شافع حسین نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز سیکٹر کا فروغ پنجاب حکومت کی پہلی ترجیح ہے، اسپیشل اکنامک زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں۔
چوہدری شافع حسین نے جاپانی وفد کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار پنجاب کو سرمایہ کاری کے لیے ترجیح دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شافع حسین
پڑھیں:
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف کی تجاویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔