وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بھارت میں بند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
پاکستانی سیاسی و حکومتی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بلاک کیے جانے کا سلسلہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی شامل ہو گئے ہیں، جن کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھارت میں بند کردیا گیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عطا اللہ تارڑ نے عالمی میڈیا پر بھارت کی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کیا بلکہ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی بھارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی اس واضح اور مؤثر مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی حکام نے ان کا آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کردیا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کا یوٹیوب چینل بھی بھارت میں بلا اطلاع بند کردیا گیا تھا۔ یہ وہی چینل ہے جہاں وزیراعظم کی تقریریں، بیانات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق ویڈیوز جاری کی جاتی تھیں۔ پاکستان نے اس اقدام کو اظہارِ رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
بھارت کی جانب سے اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی ڈیجیٹل موجودگی کو محدود کرنے کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنی ریاستی پالیسیوں پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بھارت میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔