پاکستانی سیاسی و حکومتی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بلاک کیے جانے کا سلسلہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی شامل ہو گئے ہیں، جن کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھارت میں بند کردیا گیا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عطا اللہ تارڑ نے عالمی میڈیا پر بھارت کی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کیا بلکہ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی بھارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی اس واضح اور مؤثر مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی حکام نے ان کا آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کردیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کا یوٹیوب چینل بھی بھارت میں بلا اطلاع بند کردیا گیا تھا۔ یہ وہی چینل ہے جہاں وزیراعظم کی تقریریں، بیانات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق ویڈیوز جاری کی جاتی تھیں۔ پاکستان نے اس اقدام کو اظہارِ رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

بھارت کی جانب سے اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی ڈیجیٹل موجودگی کو محدود کرنے کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنی ریاستی پالیسیوں پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بھارت میں

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل