Express News:
2026-07-24@00:42:28 GMT

اس بار صرف چائے نہیں بسکٹ بھی کھلائیں گے!

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

اس وقت دنیا کا ماحول ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ والا بن چکا ہے۔ کوئی بھی زبردست کو نہیں روک سکتا اورکمزور کو کوئی طاقتور سے نہیں بچا سکتا۔ یہ مثال ہمیں اسرائیل اور فلسطینیوں سے بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اسرائیل کے فلسطین پر مظالم سے کوئی بھی خوش نہیں ہے مگر بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو نیتن یاہو کی پیٹھ تھپتھا رہا ہے چونکہ وہ خود بھی اپنے دوست اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔

پہلگام حملے کے فوراً بعد بھارت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ بھارت کا 7 اکتوبر ہے، اس کا مطلب یہ تھا کہ اسی تاریخ کو حماس نے اسرائیل پر میزائلوں کے تابڑ توڑ حملے کیے تھے جس سے فلسطینی جارح اور اسرائیل کو دنیا نے مظلوم مان لیا تھا۔

اسرائیل تو لگتا ہے اس حملے کا انتظار ہی کر رہا تھا اور پھر اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ جوکیا وہ ہمارے سامنے ہے، وہ فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی کیے جا رہا ہے مگر امریکا سمیت تمام یورپی ممالک تماشائی بنے ہوئے ہیں، اس لیے کہ حماس نے اسرائیل پر حملے میں پہل کرکے اسرائیل کو مظلوم بنا دیا ہے چنانچہ اسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں بھرپور طاقت استعمال کرے۔

بس بھارت نے اسی مثال کو سامنے رکھ کر پہلگام میں سازشی داؤ کھیلا۔ اس نے فلیگ فالس آپریشن کے ذریعے اپنے ہی دو درجن سے زائد شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا مگر اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے چند سال قبل بھی اس نے پلوامہ میں اپنے ہی چالیس سے زائد فوجیوں کو مروا دیا تھا صرف اس لیے کہ پاکستان پر حملے کا جواز بن سکے اور بھارتیوں سے ووٹ حاصل کیے جائیں اور اب وہ پہلگام میں اپنے معصوم شہریوں کے قتل عام کے بعد پاکستان پر حملے کے لیے پَر تول رہا ہے مگر وہ منصوبے کے تحت پاکستانی حملے کا انتظار کر رہا ہے تاکہ دنیا کے سامنے مظلوم بن سکے اور پاکستان جارح کہلائے۔

اس دفعہ اس نے ایک خطرناک قدم یہ بھی اٹھایا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکدم توڑ دیا ہے یہ ایک ایسا خوفناک اقدام ہے جس پر پاکستان مشتعل ہو کر فوراً بھارت پر حملہ کر سکتا تھا۔ پاکستان نے اس اقدام کو اعلان جنگ بھی قرار دیا تھا۔ بھارت نے اپنے سازشی منصوبے کے تحت سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کا اعلان ہی اس لیے کیا تھا کہ پاکستان کو بھارت پر حملے میں پہل کرنے پر اکسایا جاسکے۔

پاکستان بھارت کی سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی پاداش میں حملہ کر سکتا تھا مگر صبر سے کام لے کر بھارت کی چال کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ بھارت سمجھ رہا تھا کہ اس پر پاکستان کے حملے سے اسرائیل کی طرح دنیا اس کی حمایت کرے گی مگر یہ اس کی بھول ہے اسرائیل کی اور بات ہے وہ امریکا اور یورپ کی آنکھوں کا تارا ہے، اس کی سلامتی ان کی ذمے داری ہے جب کہ بھارت کو مغربی دنیا روس سے اس کی گہری دوستی کی وجہ سے کسی اور نظر سے دیکھتی ہے۔

 بہرحال مودی نے اس وقت دنیا کے بگڑے ہوئے بے ہنگم حالات کی وجہ سے یہ سازشی پلان بنایا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کی بھی کوئی نہیںسن رہا۔ بھارت کا بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعے کا پاکستان کو ذمے دار قرار دینا مضحکہ خیز توہے مگر مودی اس سے اپنی حکومت کا فائدہ دیکھ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر سال چھ مہینے بعدپاکستان کو بھارت میں ہونے والے کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کا ذمے دار قرار دے دیتا ہے۔ لگتا ہے مودی حکومت پاکستان کارڈ پر ہی زندہ ہے وہ 2014 سے لے کر اب تک تین الیکشن جیت چکی ہے اور چوتھے الیکشن میں کامیابی کے لیے اس نے اب پہلگام حملے کو استعمال کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔

بھارت کے عوام کوتووہ شیشے میں اتار چکا ہے اب کاش کہ وہاں کی حزب اختلاف کی پارٹیاں ہی جرأت دکھائیں کہ یہ کیا تماشا ہے کہ ہر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر دھر دیا جاتا ہے مودی اپنی سیکیورٹی کی کوتاہیوں پر بھی تو توجہ دے مگر وہاں ہو یہ رہا ہے کہ حکومت کے خلاف بولنے والوں کو غدار قرار دے کر ان کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کرا دی جاتی ہے۔          (جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پر حملے ہے مگر رہا ہے تھا کہ

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم