بالی ووڈ کے معروف اداکار شاہد کپور اور میرا راجپوت کی شادی 2015 میں ہوئی تھی اور دونوں ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ایک ایسی بات بھی ہے جسے میرا یاد کرکے اب بھی خوف زدہ ہوجاتی ہیں۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں میرا راجپوت نے محض 20 سال کی عمر میں ایک سیلیبریٹی کے ساتھ شادی ہونے کے اپنے تجربے سے متعلق کھل کر بات کی۔

شاہد کپور اور میرا راجپوت کے دو بچے میشا اور زین ہیں۔ 

میرا راجپوت نے انٹرویو میں بتایا کہ شادی کے شروع کے دنوں میں تنہائی کا شکار تھیں۔ میں جلدی شادی ہوجانے کے باعث وہ نہ کرسکی جو میرے ہم جماعت کر رہے تھے۔

میرا راجپوت نے کہا کہ میرے اسکول کالج کے دوست یا تو ماسٹرز کر رہے تھے یا پھر دنیا بھر میں گھوم پھر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ شاہد مجھے وقت نہیں دیتے تھے لیکن ان کی بہت مصروفیات تھیں اور پھر بچوں کو بھی مجھے ہی دیکھنا تھا۔

میرا راجپوت نے کہا کہ ان سب وجوہات کے باعث میں اپنے دوستوں سے دور ہوگئیں اور ان کا یہی شکوہ تھا کہ شادی کے بعد تو بھول ہی گئیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ لیکن اب جب کہ ان سب کی بھی شادی ہوگئی ہے تو اب وہ جان چکے ہیں کہ شادی شدہ زندگی کی مصروفیات کیا ہوتی ہیں۔

میرا راجپوت نے کہا کہ ایسا نہیں کہ میں نے سارا وقت گھرداری میں ہی گزارا اور خودود کچھ نہیں کیا۔ میں نے ایک اسکن کیئر برانڈ متعارف کرایا اور کامیابی سے چلا رہی ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب میں خود کو زیادہ متوازن اور پر اعتماد محسوس کرتی ہیں۔ بچے  بھی سمجھدار ہوگئے ہیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: میرا راجپوت نے نے کہا کہ

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم