پاکستان کی پہلی کرپٹو کونسل اور اے آئی ٹول کا مشتقبل کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام (ایم او آئی ٹی اینڈ ٹی) سے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک کونسل کے قیام اور ملک کے پہلے مقامی جنریٹو اے آئی ٹول ’ذہانت AI‘ کے آغاز سے متعلق حکومت کے حالیہ اقدام کی تفصیلی بریفنگ طلب کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:14 سالہ بچے نے دل کی بیماری کا پتا لگانے والی اے آئی ایپ تیار کرلی
سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق کمیٹی کا اگلا اجلاس 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں ہوگا۔
ایجنڈے میں اہم مسئلہ پاکستان کے پہلے مقامی جنریٹو AI ٹول ’ذہانت AI‘ کا مبینہ طور پر آغاز ہے، جس کا اعلان آئی ٹی کے وزیر نے کیا تھا، لیکن بعد میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کے سی ای او نے اس کی تردید کر دی تھی۔
کمیٹی اس معاملے پر وضاحت طلب کرے گی اور ٹیکنالوجی سے متعلق اعلانات اور پیشرفت میں شفافیت کو یقینی بنانے میں وزارت کے کردار کا جائزہ لے گی۔
سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی سربراہی میں کمیٹی پاکستان کے تیزی سے تیار ہوتے ڈیجیٹل منظر نامے سے متعلق متعدد اہم مسائل کا جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اے آئی کلاسز اہم سنگ میل
ایجنڈے میں سب سے زیادہ حصہ ’مصنوعی ذہانت کا ضابطہ بل، 2024‘ ہے، جسے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے پیش کیا۔
ستمبر 2023 میں پہلی بار سینیٹ میں پیش کیا گیا، بل ملک میں اے آئی کی ترقی اور تعیناتی کو کنٹرول کرنے والے اخلاقی اور قانونی فریم ورک کی بنیاد رکھے گا۔
وزارت آئی ٹی اینڈ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام کو بھی کمیٹی کو ایل ڈی آئی (لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل) اور ایف ایل ایل (فکسڈ لائن لوکل) لائسنس کی تجدید کے بارے میں بریفنگ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
کمیٹی ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کی حالیہ منظوری کے بعد عملدرآمد کی پیشرفت کے بارے میں اپ ڈیٹس حاصل کرے گی۔
اس کے علاوہ کمیٹی ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ انویسٹمنٹ فورم (DDIF) میں پاکستان کی شرکت، بالخصوص مقامی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی تعاون اور لیڈز کے حوالے سے کے بارے میں اپ ڈیٹس کا بھی جائزہ لے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پلوشہ محمد زئی خان پی ٹی اے ذہانت اے آئی کرپٹو کرنسی وزارت آئی ٹی اینڈ ٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پلوشہ محمد زئی خان پی ٹی اے ذہانت اے ا ئی کرپٹو کرنسی وزارت آئی ٹی اینڈ ٹی اے ا ئی آئی ٹی کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔