پہلگام ڈرامہ، بھارت کی سفارتی ناکامی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پہلگام دہشت گرد حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ناکام سازش نے مودی سرکار کے مسلم دشمن عزائم مزید بے نقاب کر دئیے ہیں۔ مغربی دنیا سے پینگیں بڑھانے کے بعد بھارت اس زعم میں مبتلا تھا کہ اپنی اقتصادی ترقی اور گہرے تجارتی تعلقات کی قوت استعمال کر کے وہ پاکستان کو کونے سے لگا دے گا۔ لیکن بھارتی توقعات کے برعکس معاملات کچھ اور رخ اختیار کر گئے۔ جس بھونڈے طریقے سے پہلگام میں سیاحوں کے قتل کے بعد پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا اس نے عالمی برادری کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ بھارت کو توقع تھی کہ اس کے دوست ممالک فوری طور پر پاکستان کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دے دیں گے ۔ اس زہریلی خواہش کی تکمیل نہ ہو سکی۔ امریکہ ، برطانیہ فرانس، جاپان اور یورپی یونین کی جانب سے بھارت کے موقف کی تائید سامنے نہیں آئی۔ان تمام ممالک نے اگرچہ دہشت گردی کی مذمت تو کی تاہم کسی بھی ملک نے آنکھیں بند کر کے پاکستان کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دینے کے بجائے دونوں ممالک کو پرامن طریقے سے شفاف تحقیقات کی بنیاد پر دہشت گردی کے معاملے کو سلجھانے کا مشورہ دیا۔ اس سفارتی ناکامی پر مودی سرکار تلملا اٹھی ہے۔
بھارتی معاشرے میں موجود سنجیدہ طبقات کی جانب سے پہلگام ڈرامے کی سازش پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عالمی برادری میں خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کے باعث مودی سرکار تنقید کی زد میں ہے۔ پاکستان نے ریاستی سطح پر مشترکہ شفاف تحقیقات کی پیشکش کر کے مودی سرکار کو مزید مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارت کبھی بھی مشترکہ شفاف تحقیقات کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کرے گا۔ سفارتی محاذ پر ناکامی کے ساتھ ساتھ پہلگام ڈرامہ بھارت کے مسلم دشمن عزائم کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔ پاکستان پر اچھالا گیا کیچڑ بھارت کے چہرے کو ہی داغدار کر رہا ہے۔ یہ حقیقت دنیا پر زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بر صغیر میں بد امنی کی ایک بڑی وجہ جموں کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی اور ناجائز قبضہ ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی اور حق رائے دہی کو چھین کر غاصب بھارت نے کشمیر میں بد امنی کے بیج بوئے ہیں۔
مودی سرکار کی مسلم دشمنی کے مزید ثبوت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئے ہیں ۔پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی میڈیا پر جاری نفرت انگیز مہم کے نتیجے میں پورے ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ جنونی ہندو مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں مساجد اور وقف املاک کو سرکاری بندوبست کے تحت ضبط کیا جا رہا ہے ۔حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ جنونی ہندوں نے گزشتہ دنوں ایک نہتی مسلمان خاتون پر وحشی کتے چھوڑ دئیے ۔بھارتی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور جنگی جنون نے پورے بھارتی معاشرے کی اخلاقیات کو تباہ کر دیا ہے۔ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے خطے میں نیوکلیائی تصادم کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح ہے عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کو چوٹ پہنچانے اور عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے بھارت نے لسانی اور مذہبی جنونی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر کا سرپرست اور معاون دراصل بھارت ہی ہے۔ اس بحرانی کیفیت میں پاکستانی ریاست نے نہایت سنجیدہ اور بردبار حکمت عملی اپنائی ہے۔
عسکری قیادت کے جرات مندانہ اور دو ٹوک موقف کے باعث بھارت کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ سپہ سالار کے دلیرانہ بیانات کے بعد بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت پہ سکتہ طاری ہے ۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اپنی سفارتی ناکامی کو چھپانے کے لئے بھارت پاکستان کے خلاف فوجی مہم جوئی کے منصوبوں پر عمل کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے گا۔ تاہم یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ مودی جیسے جنونی کسی بھی وقت سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کوئی احمقانہ اقدام اٹھا کر پورے خطے کے امن کو تہ و بالا کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مودی سرکار پاکستان کو بھارت کے رہا ہے کے بعد
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک