اس دفعہ پاکستان کا سفارتی موقف زیادہ مضبوط ہے، اعزاز چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ اس دفعہ جو پاکستان کا سفارتی موقف ہے وہ زیادہ مضبوط ہے، اس کی پذیرائی بھی زیادہ ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کا موقف بہت ہی کمزور ہے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تو اس دفعہ ہندوستان کا سفارتی محاذ میرے خیال میں بہت کمزور ہے، زیادہ ان کو جو مسئلہ ہوا ہے وہ یہ ہوا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو اتنا بھڑکا چکے ہیں ان دی پراسیس کہ اب لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں جو بتایا تھا کہ ہم ان لوگوں پہ جنگ مسلط کریں گے تو اب کرو، کرتے کیوں نہیں ہو لیکن دنیا کا کوئی ملک ان کو سپورٹ کرنے کو تیار نہیں ہے.
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ دس سال سے ایکسٹریمسٹ گورنمنٹ رہی ہے وہاں پہ، مسلسل انھوں نے جو میڈیا ہے اس کو ٹارگٹ کیا ہے، اگر آپ اس کو دیکھیں گے کہ کس طرح سے جو لبرل میڈیا تھا اس کو بلیک میل کیا گیا ہے کس طرح ان سے لیا گیا ، اور پھرارناپ گوسوامی جیسے لوگ ہیں ان کو پروان چڑھایا گیا پھر گودی میڈیا کی ایک اصطلاح بنی، اصل میں یہ سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا یہ سلسلہ پچھلے الیکشن سے ہی شروع ہو گیا تھا،اگر آپ کشمیریوں کے انٹرویوز سنیں ، پنجابیوں کے انٹرویوز سنیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنے خوف زدہ ہیں.
تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا جس طرح سے انڈس بیسن ٹریٹی کو انھوں نے سسپینڈ کیا ہے جو کہ غیرقانونی طور پر سسپینڈ کیا ہے اس کا وقتی طور پرکوئی اثر نہیں، ایون میڈم ٹرم میں اس کا کوئی امپیکٹ پاکستان پر نیگیٹیو نہیں آئے گا، اسی طرح تجارت کا بھی جتنے بھی اقدامات کیے ہیں یہ سارے سمبولک ہیں کاسمیٹک میئرز ہیں، پاکستان اور بھارت کی جو تجارت ہے جو ڈائریکٹ ہے وہ 2019 سے ہو ہی نہیں رہی سوائے چند ایک ایک اسینشل چیزوں کے جن میں فارماسوٹیکل ٹائپ کی یا چند کیمکلز ہیں باقی تو ہماری تجارت تو کوئی ہو نہیں رہی جو تھوڑی بہت ٹریڈ ہو رہی ہے وہ دبئی کے راستے ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔