لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں لاہور پہنچا دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
لیبیا میں کشتی حادثہ کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے مزید دو پاکستانیوں کی میتیں ہفتے کی رات لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا دی گئیں،جاں بحق افراد کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے تھا جن کی شناخت سفیان اور ندیم احمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
میتیں ایئرپورٹ کے کارگو ڈیپارٹمنٹ میں وصول کی گئیں جہاں وزیر مملکت برائے پبلک افیئرز رانا مبشر حسین اور رکن صوبائی اسمبلی پنجاب میاں عمران جاوید نے ان کے اہل خانہ کو میتیں حوالے کیں۔
اس موقع پر مرحومین کے لیے دعا اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا مبشر حسین نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
انہوں نے کشتی حادثے کو افسوسناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت قانون سازی کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث کچھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں
۔واضح رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ 12 اور 13 اپریل کی درمیانی شب لیبیا کے مشرقی ساحل کے قریب پیش آیا تھا، جس میں درجنوں افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔