پاکستان پہلگام حملے کی تحقیقات میں ملائیشیا کی شرکت کا خیر مقدم کرےگا، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے پہلگام حملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملائیشیا اس میں شامل ہوتا ہے تو ہم خیر مقدم کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم کے درمیان اتوار کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ شہباز شریف نے پہلگام واقعے کے بعد سے بھارت کے اشتعال انگیز رویے کو یکسر مسترد کیا اور اس واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتا لگانے کے لیے بین الاقوامی، شفاف، معتبر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے پاکستان کی پیشکش کو دہرایا۔
یہ بھی پڑھیں ملکی سلامتی کی صورتحال پر اے پی سی بلانی چاہیے تھی، پی ٹی آئی کا بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ پاکستان ان تحقیقات میں ملائیشیا کی شرکت کا خیر مقدم کرےگا۔
وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر پاکستان کے کردار اور اس کوشش میں اس کی زبردست قربانیوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ بھارت کے اقدامات پاکستان کی مغربی سرحد پر انسداد دہشتگردی کی کوششوں سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس طرح کے تنازع میں الجھنا نہیں چاہتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے پاکستان ملائیشیا تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں پہلگام واقعہ: سوئٹزر لینڈ کے بعد یونان نے بھی پاکستان کی تجویز کی حمایت کردی
اس تناظر میں وزیراعظم نے بتایا کہ وہ اس سال ملائیشیا کا سرکاری دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔ یہ ٹیلی فون کال پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قریبی دوستی کی عکاس ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پہلگام فالس فلیگ شہباز شریف ملائیشیا وزیراعظم وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلگام فالس فلیگ شہباز شریف ملائیشیا وزیراعظم وزیراعظم پاکستان وی نیوز شہباز شریف
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔