ٹرمپ 13 مئی کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے، 6 خلیجی ممالک سربراہان سے ملاقات بھی متوقع
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کے آخر میں ریاض کے دورے کے دوران 6 خلیجی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 163 ارب ڈالر کا بجٹ کٹوتی پلان: تعلیم، صحت اور ہاؤسنگ ٹرمپ کے نشانے پر
اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کا 13 سے 16 مئی تک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ ان کی دوسری مدت کا پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے لیے روم کے مختصر دورہ کیا تھا۔
امریکی صدر کے ریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رہنماؤں سے ملاقات کا مقصد سیاسی اور اقتصادی تعاون کو تقویت دینا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق فی الحال سربراہی اجلاس میں دیگر عرب ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس دورے سے قبل امریکا نے جمعے کو سعودی عرب کو 3.
مزید پڑھیے: نہیں معلوم مجھے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے یا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
ریاض کا دورہ امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے تیل خریدنے والے ملک پر پابندیاں لگائیں گے، ٹرمپ نے خبردار کردیا
امریکی صدر، جنہوں نے سنہ 2018 میں پہلے کے جوہری معاہدے کو توڑ دیا تھا، نے خدشات کو دور کرنے اور ایران پر اسرائیلی فوجی حملے کے امکان کو روکنے کے لیے ایک نئے معاہدے کے حوالے سے پرامید ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب ٹرمپ کی خلیجی سربراہان سے ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا دورہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔