امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کے آخر میں ریاض کے دورے کے دوران 6 خلیجی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 163 ارب ڈالر کا بجٹ کٹوتی پلان: تعلیم، صحت اور ہاؤسنگ ٹرمپ  کے نشانے پر

اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کا 13 سے 16 مئی تک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ ان کی دوسری مدت کا پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے لیے روم کے مختصر دورہ کیا تھا۔

امریکی صدر کے ریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رہنماؤں سے ملاقات کا مقصد سیاسی اور اقتصادی تعاون کو تقویت دینا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق فی الحال سربراہی اجلاس میں دیگر عرب ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس دورے سے قبل امریکا نے جمعے کو سعودی عرب کو 3.

5 بلین ڈالر کے میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیے: نہیں معلوم مجھے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے یا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ریاض کا دورہ امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران سے تیل خریدنے والے ملک پر پابندیاں لگائیں گے، ٹرمپ نے خبردار کردیا

امریکی صدر، جنہوں نے سنہ 2018 میں پہلے کے جوہری معاہدے کو توڑ دیا تھا، نے خدشات کو دور کرنے اور ایران پر اسرائیلی فوجی حملے کے امکان کو روکنے کے لیے ایک نئے معاہدے کے حوالے سے پرامید ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب ٹرمپ کی خلیجی سربراہان سے ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا دورہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل