سلامتی کونسل میں جعفر ایکسپریس حملے کے ثبوت پیش کیے جائیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارتی پائلٹ تو چائے پی کر واپس چلے جاتے ہیں، رافیل طیارے اڑانے کے لیے دل گردہ بھی چاہیے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں جعفر ایکسپریس حملے کے ثبوت بھی پیش کیے جائیں گے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اب بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے، لیکن رافیل طیارے اڑانے کے لیے دل گردہ بھی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پائلٹ تو چائے پی کر واپس چلے جاتے ہیں، پاک بھارت کشیدگی کا حل پہلگام واقعے کی آزادانہ تحقیقات میں ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ قومی یکجہتی کے اظہار کو بانی پی ٹی آئی کی شرکت سے مشروط کرنا کوتاہ اندیشی ہے۔ یہ بات حب الوطنی کو مشروط کرنے کے مترادف ہے، قومی مسئلے کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے جوڑنا حب الوطنی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت نے در اندازی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف کا روسی ٹی وی کو انٹرویو
خواجہ آصف نے کہا کہ پلواما واقعے کے وقت ہماری قیادت بھی بانی پی ٹی آئی کی فرمائش پر قید تھی، جیلوں سے باہر موجود قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی بلائی گئی بریفنگ میں شرکت کی تھی۔ جبکہ بانی پی ٹی آئی نے اس بریفنگ میں ہمارے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا، ہم نے کبھی قومی اتحاد میں رخنہ نہیں ڈالا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وطن اور اس کی سلامتی شخصیات اور لیڈر شپ سے زیادہ اہم ہے، پاکستان کو تاقیامت دوام ہے، ان شا اللہ۔ بڑے بڑے محترم لیڈر آئے اور اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیڈر اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں اور قومیں زندہ رہتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی پائلٹ جعفر ایکسپریس رافیل طیارے سلامتی کونسل وزیر دفاع خواجہ آصف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی پائلٹ جعفر ایکسپریس رافیل طیارے سلامتی کونسل وزیر دفاع خواجہ آصف بانی پی ٹی آئی کی وزیر دفاع خواجہ خواجہ آصف نے کہا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔