پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے لیے میڈیا کو آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کرایا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق اس دورے کا اہتمام بھارتی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے لئے کیا گیا جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز نے کچھ مقامات پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے قومی اور بین الاقوامی صحافیوں کے لئے آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے دورے کا اہتمام کیا جس کا مقصد بھارتی میڈیا کے حالیہ دعوئوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کا اہتمام بھارتی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے لئے کیا گیا جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز نے کچھ مقامات پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں کچھ مبینہ طور پر فرار ہو گئے۔ انڈیا ٹوڈے نے ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ عسکریت پسندوں کو کیل، دودھنیال، اٹھمقام، جورا، لیپا، فارورڈ کہوٹہ، کوٹلی، چمن کوٹ اور جان کوٹ سے منتقل کیا گیا ہے۔ پاکستان نے میڈیا کو ان مقامات کا دورہ کرا کے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔ انڈیا ٹوڈے کے جھوٹے دعوے سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی فورسز ان علاقوں کے ناموں کا استعمال کر کے من گھڑت بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ تاہم پاکستان نے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کو بروقت بے نقاب کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروپیگنڈے کو بے نقاب پاکستان نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔