پاکستان امن چاہتا ہے مگر ملکی سالمیت کی خلاف ورزی پر پوری طاقت سے جواب دیگا، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہے، اور اس کا مقابلہ غیر متزلزل قومی اتحاد کے ساتھ کرنا چاہیے۔
جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راؤلپنڈی میں 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف عاصم منیر نے بلوچستان کی سماجی و اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے پر حکومت کی مستقل توجہ کو اجاگر کیا اور کہا کہ بلوچستان میں کیے جانے والے اقدامات اس سلسلے میں غلط معلومات کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جس ملک کے تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق کام کریں ایسی ریاست کو ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کہا جاتا ہے، آرمی چیف
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ترقیاتی منصوبے پہلے ہی ثمر آور ہونا شروع ہو چکے ہیں جس سے بلوچستان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام، خاص طور پر نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے میں سول سوسائٹی کے اراکین کے کردار کو سراہتے ہوئےآرمی چیف نے علاقے کی ترقی میں ان کے کردار پر زور دیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی بلوچستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن عناصر کے مذموم منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا جو تشدد کرنے، خوف پھیلانے اور صوبے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہے، اور اس کا مقابلہ غیر متزلزل قومی اتحاد کے ساتھ کرنا چاہیے۔ وہ دہشت گرد گروہ جو اپنے چھوٹے سے گھناؤنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بلوچ شناخت کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں، وہ بلوچ غیرت اور حب الوطنی پر ایک دھبہ ہیں
یہ بھی پڑھیے: ترجمان افواج پاکستان کا انڈین آرمی چیف کے من گھڑت بیان پر منہ توڑ جواب
آرمی چیف نے زور دیا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن چاہتا ہے، تاہم اگر پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پاکستان اپنے قومی وقار اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو محفوظ رکھنے کے لیے پوری طاقت سے جواب دے گا۔
بعدازاں، ورکشاپ سوال و جواب کے سیشن کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔
واضح رہے کہ یہ ورکشاپ 2016 سے منعقد ہو رہی ہے اور اس میں بلوچستان سے زیادہ سے زیادہ نمائندگی کے ساتھ بڑی تعداد میں مرد و خواتین پارلیمنٹیرینز، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی کے اراکین، نوجوان، تعلیمی ماہرین اور میڈیا نمائندے شامل ہوتے ہیں۔
ورکشاپ میں بات چیت، سیمینارز، گروپ ڈسکشنز اور ملک کے مختلف حصوں کے دورے شامل ہیں۔ اس کا مقصد بلوچستان کی مستقبل کی قیادت کو اہم قومی و صوبائی مسائل کو سمجھنے اور ان کا مربوط جواب دینے کے قابل بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرمی چیف اور اس کے لیے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔