Islam Times:
2026-06-03@08:12:32 GMT

بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان تجارتی کشیدگی

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان تجارتی کشیدگی

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت نے بنگلا دیش کو حاصل ٹرانزٹ سہولت معطل کر دی ہے، جس کے تحت بنگلا دیش اپنی مصنوعات بھارتی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے تیسرے ممالک تک برآمد کرتا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان تجارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت نے بنگلا دیش کو حاصل ٹرانزٹ سہولت معطل کر دی ہے، جس کے تحت بنگلا دیش اپنی مصنوعات بھارتی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے تیسرے ممالک تک برآمد کرتا تھا۔ بھارتی حکام نے اس اقدام کی وجہ بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر رش اور لوڈ کو قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے جواب میں بنگلا دیش نے بھارت سے روڈ کے ذریعے درآمد ہونے والے سوتی دھاگے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بنگلا دیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تجارتی تنازع خطے میں معاشی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، ماہرین کے مطابق اگر جلد مذاکرات نہ ہوئے تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بنگلا دیش

پڑھیں:

پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی