اہل ایمان کے دوسرے سب سے بڑے مذہبی تہوار عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے جس کے لیے دنیا بھر میں تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔  بات کی جائے اگر پاکستان کی تو ملک کے مختلف علاقوں میں مویشی منڈیوں کے قیام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جہاں بکرے، دنبے، بیل اور اونٹوں کو مویشی منڈیوں میں لایا جارہا ہے۔

عید قربان میں ایک ماہ کا وقت رہ گیا ہے۔ ایسے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مویشیوں کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ لایا جارہا ہے۔ بیوپاریوں کے مطابق کوئٹہ میں غیر سرکاری طور پر لگائی جانے والی مویشی منڈیوں میں سبی کے علاقے بھاگ ناڑی اور سندھ سے بیل، ساہیوال اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے دیسی بکرے جبکہ پہاڑی بکرے اور دنبوں کی مختلف اقسام افغانستان سے کوئٹہ لائی جاتی ہیں جس سے کوئٹہ میں عید قربان کے لیے مویشی پورے کیے جاتے ہیں۔ دراصل کوئٹہ لائے جانے والے جانوروں کا 40 سے 50 فیصد حصہ افغانستان سے آتا ہے۔

ایسے میں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار افغانستان سے کوئٹہ مویشی لائے جائیں گے یا نہیں؟

وی نیوز نے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے بات کرنے میں کامیابی نہ ہوسکی۔ تاہم چمن کے مقامی شخص ستار خوندائی نے وی نیوز کو بتایا کہ چمن سرحد سے تا حال کسی قسم کے مویشی نہیں لائے جا رہے ہیں کیونکہ سرحد بند ہے۔ اس کے برعکس جانور بڑی تعداد میں سمگل ضرور ہو رہے ہیں جو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پہنچائے جا رہے ہیں۔ قانونی طور پر تاحال مویشیوں کو پاکستان لانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

 دوسری جانب سیکرٹری لائیو اسٹاک طیب لہڑی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان سے مال مویشی لائے جانے سے متعلق تاحال کچھ کہہ نہیں سکتے۔ البتہ صورتحال یہ ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے مقامی بیوپاریوں کو سہولت فراہم کی گئی تھی جس سے کوئٹہ میں مال مویشیوں کی بڑی کمی کا سامنا نہیں ہوگا، تاہم مویشیوں کی کمی کا اثر قیمتوں پر ضرور پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب عید قربان سے 10 روز قبل محکمہ لائیو اسٹاک اپنی مویشی منڈیاں بھی قائم کرے گا جس سے مویشیوں کی کمی پوری ہو جائے گی۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے مقامی بیوپاری وقاص خان نے بتایا کہ کوئٹہ میں لگائی جانے والی مویشی منڈیوں میں 40 سے 50 فیصد پہاڑی بکرے اور دنبے افغانستان سے لائے جاتے ہیں تاہم اس بار مال مویشی نہ ہونے کے برابر افغانستان سے آرہے ہیں جس کی وجہ سے اب تک کوئٹہ کی مقامی مویشی منڈیاں سونی پڑی ہیں۔

’اگر صورتحال یہی رہی تو عید قربان پر مویشیوں کی قلت کا بڑا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یوں منڈیوں میں موجود جانوروں کی قیمتیں بھی 30 سے 40 گنا بڑھ سکتی ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان سے منڈیوں میں مویشیوں کی کوئٹہ میں کے مختلف سے کوئٹہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف