اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) ملکی عسکری و سیاسی قیادت نے مادر وطن کے دفاع کیلئے پاکستان کے دوٹوک عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کے تمام دیگر عناصر اور ریاستی اداروں کے تعاون سے پاکستان کی سلامتی اور عزت و  وقار کے تحفظ کا ہر حال میں دفاع کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور مسلح افواج کے سربراہان کے ہمراہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ دورہ کے دوران وزیراعظم کو پاکستان کی مشرقی سرحد پر بھارت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ اور اشتعال انگیز رویے کے تناظر میں روایتی خطرے سے نمٹنے کی دفاعی تیاریوں اور سلامتی کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ قیادت کو علاقائی سلامتی کے حوالے سے پیشرفت اور ابھرتے ہوئے خطرات سے آگاہ کیا گیا جن میں روایتی فوجی آپشنز، ہائبرڈ وار فیئر کی حکمت عملی اور دہشت گردی کی پراکسیز شامل ہیں۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھ موجود شخصیات نے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے اور فیصلہ کن جواب دینے کیلئے قومی نگرانی بڑھانے، بلاتعطل انٹر ایجنسی تعاون اور آپریشنل تیاریوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ مہارت اور تزویراتی بصیرت کو سراہتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ اور پیچیدہ اور بدلتے ہوئے حالات میں قومی سلامتی کے حوالے سے فیصلہ سازی میں اس کے اہم کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم ہماری بہادر مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہے، پاک فوج دنیا کی سب سے زیادہ پیشہ ورانہ اور نظم و ضبط والی فورسز میں شمار ہوتی ہے۔ قومی قیادت نے روایتی یا دیگر تمام خطرات کے خلاف وطن کے دفاع کیلئے پاکستان کے دوٹوک عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجدید کی کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کے تمام عناصر اور ریاستی اداروں کے تعاون سے ہر حال میں پاکستان کی سلامتی اور عزت و وقار کو برقرار رکھنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف ، ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو ملکی سکیورٹی صورتحال اور مشرقی سرحد پر بھارتی جارحانہ اشتعال انگیز اقدامات‘ خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں پر مفصل بریفنگ دی گئی۔ اس دوران مشرقی سرحد پر بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے تناظر میں روایتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ قومی قیادت کو علاقائی سلامتی کی تازہ ترین صورتحال، خطرات کی نئی جہتوں، روایتی فوجی چیلنجز، ہائبرڈ وار فیئر اور دہشت گردی کے پراکسی نیٹ ورکس سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم اور ان کے ہمراہ اعلیٰ حکام نے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو سراہا اور ہر سطح پر آپریشنل تیاری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ملکی خود مختاری اور سالمیت پر کسی بھی حملے کا مؤثر اور فوری جواب دیا جا سکے۔ وزیراعظم نے آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ مہارت اور سٹریٹجک فہم کی تعریف کی۔ انہوں نے قومی مفادات کے تحفظ اور پیچیدہ سکیورٹی حالات میں بروقت فیصلے لینے میں ادارے کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے، "پاک فوج دنیا کی سب سے پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل افواج میں سے ایک ہے۔" قومی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر قسم کے خطرات کے خلاف اپنا دفاع یقینی بنائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوامی حمایت کے ساتھ مسلح افواج اور ریاستی ادارے مکمل طور پر تیار ہیں، وہ پاکستان کی سلامتی، وقار اور خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کریں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اور تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے ہیڈکوارٹر کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی-چمن شاہراہ کی اپ گریڈیشن بلوچستان کی سماجی اور معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہے، بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے گزشتہ ماہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے اس بچت کو کراچی-چمن شاہراہ کی اپ گریڈیشن پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تمام صوبوں نے اس فیصلے میں تعاون کیا جو وفاق کے اتحاد کی نشانی ہے، کراچی تا چمن شاہراہ کی تعمیر سے 18 گھنٹے کا سفر 6 سے 8 گھنٹے تک محدود ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سڑک کی تعمیر کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، منصوبہ دو سال میں مکمل کیا جائے۔ وزیر اعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کراچی-چمن قومی شاہراہ (این۔25) کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر اہم جائزہ اجلاس یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 790 کلومیٹر طویل کراچی-چمن شاہراہ کو بہترین معیار کی ایکسپریس وے میں بدلا جائے گا۔ اجلاس کے شرکاء  سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی سڑک کی تعمیر کا معیار  موٹر وے جیسا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا پاکستان کے تمام صوبوں نے اس فیصلے میں تعاون کیا جو وفاق کے اتحاد کی علامت ہے۔ کراچی -چمن ایکسپریس وے سے نہ صرف مسافر مستفید ہوں گے بلکہ ٹرانسپورٹ اور تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، منصوبے کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ایکسپریس وے کے لئے زمین کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے متعلقہ محکموں سے تعاون کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کے لئے ایکسپریس وے پر آنے والے تمام بڑے شہروں پر بائی پاسز تعمیر کئے جائیں۔ وزیراعظم نے  منصوبے کی تعمیر کے دوران  ماحولیاتی عنصر کو مدنظر رکھنے اور منصوبے کی تعمیر کے بعد تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کے دوران گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی خصوصاً کراچی -چمن شاہراہ کی تعمیر اور اپ گریڈیشن میں خصوصی دلچسپی لینے پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا۔ اجلاس کو منصوبے کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 790 کلومیٹر طویل کراچی-چمن شاہراہ کو ایکسپریس وے کے طور پر تعمیر کیا جائے گا جو کہ 4 لینز پر مشتمل دو رویہ سڑک ہو گی، شاہراہ پر فنڈنگ کی کمی کے باعث کام تعطل کا شکار تھا تاہم حکومت کے  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بلوچستان کی جانب منتقل کرنے کے فیصلے کی وجہ سے فنڈنگ کے مسائل حل ہو گئے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا  گیا کہ منصوبے کے خضدار-مستونگ سیکشن پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ کراچی تا خضدار کے پانچ سیکشنز کی تعمیر کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی جا رہی  ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبد العلیم خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شریک ہوئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریگولیٹری عمل کی بہتری، شفافیت کے فروغ،  بیوروکریٹک مسائل کے خاتمہ سے کاروبار کے لئے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا گیا ہے، حکومت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل  کے ذریعے سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لئے ون ونڈو آپریشنز کی سہولت فراہم کر رہی ہے، پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، عالمی مالیاتی ادارے پاکستانی معیشت میں بہتری کے معترف ہیں۔ پاکستان کاروبار، سرمایہ کاری کے لئے محفوظ، منافع بخش ملک ہے۔ وزیر اعظم آفس کے پریس ونگ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکی چیمبر آف کامرس کی امریکہ-پاکستان بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں سینئر نائب صدر ایشیا -امریکہ چیمبر آف کامرس چارلس فریمین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایشیا و صدر پاکستان-امریکہ بزنس کونسل سپیرینزا گومیز، ڈائریکٹر گورنمنٹ افیئرز ایبٹ انڈسٹریز ہینی ہینسر، ہیڈ آف پبلک پالیسی یوریشیا ایپل ایسرا کونی اور دیگر شامل تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں آپ کا یہاں خیر مقدم کرنا میرے لئے باعث مسرت ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہم پاکستان میں ملازمتیں پیدا کرنے، ریونیو میں حصہ ڈالنے اور علاقائی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کے لئے آپ کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور  امریکہ کے درمیان اقتصادی اور سٹرٹیجک شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے، ہم امریکی حکومت اور کاروباری اداروں کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعلقات کی قدر کرتے ہیں۔ وزیراعظم  نے کہا کہ حکومت پاکستان ٹیرف کے مسئلے پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں اس امید کا اظہار کیا کہ اس کا باہمی طور پر فائدہ مند حل تلاش کر لیا جائے گا۔ ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ایک پر کشش ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔ وزیراعظم نے فریڈرش میرس  کو جرمنی کا چانسلر منتخب  ہونے پر مبارکباد  دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی کو مزید ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کی کامیابی کی متمنی ہیں۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار   بھی کیا۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی میزائل حملے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مکار دشمن کو اس کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دشمن سے نمٹنا بخوبی جانتے ہیں اور مسلط کردہ اس حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستانی قوم اور افواج کا مورال بلند ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکار دشمن نے پاکستان کے 5 مقامات پر بزدلانہ حملہ کیا ہے۔ پاکستان بھارت کے مسلط کردہ اس جنگی عمل کا بھرپور جواب دینے کا بھرپور حق رکھتا ہے اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے اور پوری پاکستانی قوم کا مورال اور جذبہ بلند ہے۔ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان دشمن سے نمٹنا بخوبی جانتے ہیں۔ دشمن کو اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا کراچی چمن شاہراہ چمن شاہراہ کی ا ئی ایس ا ئی سرمایہ کاری بلوچستان کی ایکسپریس وے کی تعمیر کے کے حوالے سے مسلح افواج کہ پاکستان پاکستان کے اپ گریڈیشن پاکستان کی اداروں کے کرتے ہوئے کہا ہے کہ کا اظہار ہدایت کی افواج کے اور وزیر کے دوران انہوں نے کے لئے ا کیا گیا جائے گا کے تمام کے ساتھ

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان