بھارتی جارحیت: لاہور سمیت پنجاب بھر میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سٹی42: بھارتی جارحیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ لاہور سمیت تمام شہروں میں حساس مقامات پر نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ بارڈر ایریاز میں بھی سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق سرحدی علاقوں میں دیہات کے افراد رضاکارانہ طور پر پاک فوج کی مدد کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں جو قومی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بزدلانہ حملے پر شہریوں کا جذبہ قابلِ فخر ہے اور قوم کا مطالبہ تھا کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔
میچ کے دوران بولر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا
فیصل کامران نے مزید کہا کہ پاک فوج نے بروقت اور بھرپور کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو مؤثر جواب دیا ہے اور سیکیورٹی ادارے ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
حکام کے مطابق،پولیس کی تمام نفری کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں اہم تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 کر دیا گیا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔