پاکستان اور بھارت میں بڑھتی کشیدگی؛ وزیر داخلہ سے قائم مقام امریکی سفیر کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور بھارت کے مابین صورت حال کشیدہ ہے اور اسی دوران وزیر داخلہ سے قائم مقام امریکی سفیر نے ملاقات کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات کے موقع پر امریکی پولیٹیکل قونصلر زیک ہارکن رائیڈر اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔
اہم ملاقات میں بھارت کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے قائم مقام امریکی سفیر کو بھارتی حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں بریف کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ بھارت نے جنوبی ایشیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں علاقائی امن تار تار ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے شہریوں کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا کردیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دفاع وطن کے لیے دشمن کو بھرپور جواب دیا ہے۔ پاکستان نے ابھی انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن ہم اپنی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بھارت کے خطرناک عزائم سے پہلے ہی دوست ممالک کو آگاہ کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائم مقام امریکی وزیر داخلہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔