امریکا کا یمنی حوثیوں کے مالیاتی نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
امریکی حکومت نے یمن مین موجود حوثی گروپ کے مالی وسائل اور فنڈنگ نیٹ ورک سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے حوثی گروپ کے مالیاتی نظام میں خلل ڈالنے والی معلومات کے لیے 15 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش اپنے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام کے تحت کی ہے، جو محکمہ خارجہ کا انسداد دہشت گردی سے متعلق اہم پروگرام ہے اور اس کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کے مالی ذرائع کو بے نقاب اور ختم کرنا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق حوثی گروپ نے تجارتی بحری جہازوں پر کئی حملوں سمیت انہیں ہائی جیک کرنے اور امریکی جہازوں پر اینٹی شپ میزائل داغنے کی کوشش کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
’اگر آپ کے پاس حوثیوں کے فنانسرز، شراکت داروں، یا مالیاتی نیٹ ورکس کے بارے میں کوئی معلومات ہیں، تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں۔‘
منگل کے روز، امریکا نے جنوری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاری کردہ ایک حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
حوثی گروپ یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت بعض حصوں پر اپنا کنٹرول رکھتے ہیں اور اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں کو بھی بار بار نشانہ بنایا ہے جو عالمی تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہ ہیں۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ وہ افراد جو حوثی ملیشیا کو مالی امداد پہنچانے والے عناصر، کمپنیوں یا نیٹ ورکس کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کریں گے انہیں یہ خطیر انعام دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا انعام بحیرہ احمر حوثی حوثی ملیشیا خطیر انعام خلیجِ عدن ریوارڈز فار جسٹس عالمی تجارت یمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا حوثی ملیشیا خلیج عدن ریوارڈز فار جسٹس عالمی تجارت حوثی گروپ
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔