پاک بھارت کشیدگی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو پریشان کردیا، مگر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو پریشان کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کرکٹ ٹیم 25 مئی سے شروع ہونیوالی 5 ٹی20 میچز کی سیریز کیلئے پاکستان کا دورہ کرے گی تاہم پاک بھارت ممالک درمیان تناؤ کے ماحول نے دوطرفہ سیریز پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک اپنے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کیلئے اسلام آباد میں بنگلادیش ہائی کمیشن کے ساتھ رابطے میں ہے۔
مزید پڑھیں: پاک بنگلادیش ٹی20 سیریز کا شیڈول جاری
پی ایس ایل کے دوران بنگلادیش کے لیگ اسپنر رشاد حسین (لاہور قلندرز) اور فاسٹ باؤلر ناہید رانا پشاور زلمی کی نمائندگی کررہے ہیں۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر فاروق احمد نے ایک مقامی اسپورٹس آؤٹ لیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ فی الحال سیریز سے قبل صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف ٹی 20 سیریز کے لیے بنگلا دیشی اسکواڈ کا اعلان
واضح رہے کہ بنگلادیش کو 25 مئی سے 3 جون تک پاکستان کیخلاف 5 ٹی20 میچز کی سیریز کھیلنا ہے جس کے 2 میچز فیصل آباد میں کھیلے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلادیش کرکٹ بورڈ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔