رافیل کے بعد اسرائیلی ڈرون بھی زمین بوس،بھارتی فضائیہ کی تاریخی شکست کے بعد بری فوج کو سامنے لانے کا ایک اور ناکام فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
رافیل کے بعد اسرائیلی ڈرون بھی زمین بوس،بھارتی فضائیہ کی تاریخی شکست کے بعد بری فوج کو سامنے لانے کا ایک اور ناکام فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
اسلام اباد (آئی پی ایس )بھارتی فضائیہ کی تاریخی شکست کے بعد مودی کا بھارتی بری فوج کو سامنے لانے کا ایک اور ناکام فیصلہ ،بھارتی فضائیہ کے بعد بھارتی فوج بھی پٹ گئی ۔پاکستان نے بھارت اور اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی کو دو گھنٹے کے اندر اندر زمین بوس کر دیا ۔فرانس کے رافیل تیاروں کی تاریخی شکست کے بعد اسرائیلی ڈرون بھی مودی سرکار کو ذلت سے نہ بچا سکیپاکستان کی مستعد دفاعی حکمت عملی کی بدولت جدید اسرائیلی ڈرون ایک گھنٹے کے اندر پاکستانی بچوں کے کھلونے بن گئے ۔
بھارت میں ذرائع تصدیق کر رہے ہیں کہ اس تاریخی ناکامی پر اعلی سطح کی انکوائری تشکیل دی جا چکی ہے ۔پاکستانی ایئر فورس کی بلاک بسٹر فلم تیارے زمین پر پھر سے ہٹ، بالا بھارت اپنی اوقات میں واپس آگیا۔پاکستان پر ڈرون حملہ بھارتی دفاعی حکمت عملی اور پریشانی کی واضع عکاسی ہے ۔بھارت کا اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا سہارا لینا تمام جدید ٹیکنالوجی اور رافیل پر بداعتمادی کی واضع عکاسی ہے ۔بھارت اپنی ڈرون سٹریٹیجی میں بھی ناکام ہوا، پاکستانی دفاعی سسٹم نے بھارتی ڈرونز کو کاغز کے جہاز کی طرح کا پٹخابھارت رافیل کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھک رہا تھا مگر اب بھارتی میڈیا پر لفظ رافیل بلیک آوٹ تصور کیا جارہا ہے۔
مودی اور اجیب دوول کی جوڑی بھارت کے لیے عالمی ناکامی کا باعث بنی۔بھارتی اپوزیشن کانگرس کی قیادت میں مودی سرکار کو گھر بھیجنے کے لیے سیاسی میدان گرم کرنے والا ہے۔مودی سرکار بھارتی عوام کو نواب دے کہ خود کو سپر پاور کہنے والا بھارت کھلونا نما اسرائیلی ساختہ ڈرون استعمال کرنے پر کیوں اتر آیا۔کرپشن زدہ رافیل ڈیل بھارتی عوام کے ساتھ بدترین فراڈ ہے، بھارت میں آوازیںاٹھناشروع ہو گئی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت سیاسی اور ملٹری سطح پر روابط،نائب وزیر اعظم کی تصدیق پاک بھارت سیاسی اور ملٹری سطح پر روابط،نائب وزیر اعظم کی تصدیق پاکستان سے منہ کی کھانے پر بھارت کو کتنے روپے مالیت کے جنگی طیاروں کا نقصان ہوا؟ غزہ میں اسرائیلی بمباری، 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد فلسطینی شہید پاکستانیوں کیلیے بیلاروس میں روزگار کے مواقع؛ حکومت کی بڑی پیش رفت مودی کی بھارتی پنجاب پر حملہ کرکے پاکستان پر الزام لگانے کی سازش ،مقصد سکھوں کو پاکستان مخالف کرنا ہے:ذرائع سفید جھنڈے لہرانے اور مہلت ملتے ہی حملہ کرنے والوں کو سبق سکھانے کا لمحہ قریب آرہا ہے، عرفان صدیقیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی تاریخی شکست کے بعد بھارتی فضائیہ اسرائیلی ڈرون
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔