اسحاق ڈار کی بھارتی قومی سلامتی کے مشیر سے رابطہ کی تصدیق، یورپی یونین، اطالوی وزیر سے ٹیلی فونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی مشیروں کے دفاتر کے درمیان رابطے ہوئے ہیں۔ برطانوی خبرایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن کام کررہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے جو کچھ کیا ہے وہ ناقابل معافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگی اقدام کیا ہے۔ اس لیے پاکستان مناسب جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی سربراہ خارجہ امور کاجا کالس کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے مشکل وقت میں یورپی یونین کی پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے موجودہ علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے جمعرات کو اٹلی کی وزراء کونسل کے نائب صدر اور خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر انتونیو تاجانی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم نے اپنے اطالوی ہم منصب کو بین الاقوامی سرحد کے پار سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے والے سٹینڈ آف ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے بھارت کی جارحیت اور پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے بارے میں بریفنگ دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے نے کہا
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔