اسرائیل اور بھارت مسلمان دشمنی میں اکٹھے ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف — فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے قریب ترین حلیف بھی نہیں کھڑے، اسرائیل کا بھارت کے ساتھ کھڑا ہونا فطری ہے، اسرائیل اور بھارت مسلمان دشمنی میں اکٹھے ہیں۔
خواجہ آصف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے جارحانہ عزائم کا مؤثر انداز میں جواب دیا جا رہا ہے، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، ہم 200 فیصد تیار ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جن سے رابطے ہونے چاہیے تھے اور رابطے نہ ہوئے ہوں۔
وزیرِ دفاع نے بتایا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، ایران کے وزیر خارجہ 2 روز پہلے پاکستان بھی آئے۔
اُنہوں نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ روز کی بنیاد پر رابطہ ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا صاحب نے یہ بات درست کی کہ سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ کچھ ممالک پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جن میں چین، آذربائیجان اور ترکیہ شامل ہیں اور بھارت کے ساتھ تو اس کے قریب ترین حلیف بھی نہیں ہیں صرف ایک دو ملکوں نے بھارت کی ہلکی پھلکی حمایت کی ہے باقی دنیا نیوٹرل ہے۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بھارت کا اتحاد ان کے عزائم کو سامنے لاتا ہے۔ بھارتی میڈیا، بھارتی عوام اور افواج کے حوصلے پست ہوچکے ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہمارے پاس دنوں میں انتظار کرنے اور تحمل دکھانے کا وقت نہیں۔ بی ایل اے، ٹی ٹی پی بھارت کی پراکسیز ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ ہماری افواج بہادری کے ساتھ کنٹرول لائن، بارڈر اور ورکنگ باؤنڈری پر مقابلہ کر رہی ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت جو کہ ہر لحاظ سے ایک بڑی دفاعی قوت ہے، ہم نے اس کے 5 جنگی جہاز گرائے۔
اُنہوں نے بتایا کہ کل جو ڈرونز حملے ہوئے وہ ہمارے ایئرڈیفنس سسٹمز کی لوکیشن معلوم کرنے کےلیے تھے، ہمارے ایئرڈیفنس سسٹمز کی لوکیشن سامنے نہ آئیں اس لیے انہیں انٹرسیپٹ نہیں کیا، جب وہ ڈرون نیچے آئے تو انہیں مار کر گرا دیا گیا۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کی افواج کی کارروائی رات دن جاری ہے، پاک افواج بہادری سے ملک کا دفاع کر رہی ہیں، ہم بھارت کو بھرپور جواب دے رہے ہیں، عوام کو بھرپور اعتماد ہونا چاہیے، بھارتی عزائم کو ملیہ میٹ کیا جا چکا ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، ہم 200 فیصد تیار ہیں، مدارس ہمارے ملک کے دفاع کی سیکنڈ لائن ہیں، مدارس کے طلباء کو 100 فیصد شہری دفاع میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ا نہوں نے بتایا کہ خواجہ آصف اور بھارت بھارت کے کے ساتھ خواجہ ا کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔