Jang News:
2026-06-03@05:39:03 GMT

تمباکو کے شعبے میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

تمباکو کے شعبے میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

---فائل فوٹو

ایف بی آر نے تمباکو کے شعبے میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف کرتے ہوئے اس کو روکنے کےلیے قائمہ کمیٹی سے اختیارات مانگ لیے۔

نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔

اس دوران چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد لنگڑیال نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس میں مانیٹرنگ کا اختیار تھا مگر انکم ٹیکس میں ایسا اختیار نہیں تھا، اسلام آباد میں ایک ہیچری دن میں 10 لاکھ چوزے فروخت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک چوزے کی پیداواری لاگت 60 سے 70 روپے ہے، اس کمپنی سے 150 ارب روپے کی ٹیکس وصولی بنتی ہے، کمپنی کو 30 ارب روپے سالانہ اضافی ٹیکس دینا ہوگا، ایسے 10 یونٹس اور ہیں جن کو چیک کیا جائے گا، کمپنی کے ڈیٹا کو چیک کرنے کے لیے یہ اختیار لایا گیا۔

پاکستان میں ٹیکس ریٹ غلط ہے، جسے ٹھیک کیا جانا چاہیے، چیئرمین ایف بی آر کا اعتراف

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس ریٹ غلط ہے،جسے ٹھیک کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں اب ٹیکس کیسز کے جلد فیصلے آنا شروع ہوگئے ہیں، ایک کمپنی سے 24 ارب روپے لینے کا فیصلہ ہمارے حق میں آیا، کمپنی نے فیصلے سے قبل اپنے بینک اکاؤنٹس سے ساری رقم نکل لی، اس چیز کو روکنے کےلیے بینک اکاؤنٹ کو ضبط کرنے کا اختیار مانگا۔

راشد لنگڑیال نے بتایا کہ سگریٹ میں 300 ارب روپے سالانہ کی ٹیکس چوری ہے اس کو روکنے کےلیے اختیارات چاہیے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ آپ کو اختیارات مل جائیں گے مگر ٹیکس وصولی میں اضافہ نہیں ہوگا، آپ کو اس سے کتنی آمدن ہوگی؟

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس سے شارٹ فال تو پورا نہیں ہوگا مگر کچھ اضافی ٹیکس وصولی ہوگی، یہ اختیارات آئین کے مطابق ہیں، ان کی وفاقی کابینہ، وزیراعظم اور صدر مملکت نے منظوری دی۔

سید نوید قمر نے کہا کہ اس سب کے باوجود آپ نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا ہے، وزارت قانون نے اتنی جلدی یہ قانون کیوں پاس کیا؟

نمائندہ وزارت قانون نے بتایا کہ ایف بی آر نے مالی دشواری کے باعث یہ آرڈیننس جاری کرنے کا کہا تھا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس معاملے پر وزیر قانون یا سیکریٹری قانون سے پوچھا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ ارب روپے کی ٹیکس ایف بی

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا