نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ترکیے کے اپنے ہم منصب خاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر کی ملاقات

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے ترکیے کے وزیرخارجہ خاکان فیدان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انہیں بگڑتی ہوئی علاقائی صورتحال اور بھارت کی جانب سے بلا اشتعال مساجد، رہائشی علاقوں اور مذہبی مقامات پر حملوں کے بارے میں آگاہ کیا جن میں عام شہریوں کی شہادتیں واقع ہوئی ہیں۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MishaqDar50 spoke on telephone with the Foreign Minister of Türkiye, Hakan Fidan @HakanFidan today.

DPM/FM briefed him about the deteriorating regional situation and India’s continued illegal and unprovoked… pic.twitter.com/u0Ypyx5wiV

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 9, 2025

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصب سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ چارٹر کے تحت اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا جاپانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا

ترکیے کے وزیرخارجہ خاکان فیدان نے معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر دکھ اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسحاق ڈار پاکستان ترکیے ٹیلیفونک رابطہ خاکان فیدان نائب وزیراعظم وزیرخارجہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاکستان ترکیے ٹیلیفونک رابطہ خاکان فیدان ٹیلیفونک رابطہ خاکان فیدان سے ٹیلیفونک اسحاق ڈار

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری