پاکستان میں ڈرون حملے، ایک پاکستانی کو کیا کرنا چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
ہم اس وقت ڈرون حملے کی زد میں ہیں، اور بہت سے لوگ اس جدید جنگی حربے سے ناواقف ہیں۔ کچھ لوگ ڈرون کو میزائل سمجھ رہے ہیں۔ یہ صورت حال دنوں، ہفتوں، یا مہینوں تک بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں مارگرائے جانیوالے اسرائیلی ساختہ ’ہیروپ ڈرونز‘ کیا ہیں؟
اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔– جب آپ آسمان میں عجیب و غریب آوازیں سنیں تو آپ جہاں بھی ہوں کوشش کریں کہ خود اس سے پوشیدہ رکھیں۔
– گھر کے اندر رہیں اور باہر جانے سے گریز کریں۔
– انجانی اور اجنبی چیزوں سے دور رہیں۔
– یہ ڈرون (ہیرون، ہارپی، ہیروپ) اسرائیل میں بنائے گئے جنگی سازوسامان ہیں۔
– ان کا پتہ لگانا اور روکنا مشکل ہے۔
– یہ ڈرون جانی اور مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم کیساتھ پاکستان نے اب تک 77 بھارتی ڈرونز گرا دیے
واقعات کی اطلاع دینا– اگر آپ ڈرون سے متعلق کسی بھی واقعے کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو براہ کرم اسے درج ذیل کوائف کے ساتھ رپورٹ کریں:
– درست ویڈیو فوٹیج
– واقعہ کی تاریخ، وقت اور مقام
– تصاویر (اگر ممکن ہو)
جان و مال کی حفاظت کے پیش نظر ڈرون سے متعلق یہ معلومات کو اپنے خاندان، دوستوں اور کمیونٹی میں شیئر کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔