پاک بھارت کشیدگی: پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز کو 2 ارب روپے کا ایمرجنسی فنڈ جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب سے 2 ارب روپے کا انٹرنل سکیورٹی فنڈ جاری کردیا گیا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ایمرجنسی حفاظتی انتظامات کیلئے 2 ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو راشن، ادویات اور فیول سمیت ضروری سامان میں دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ فنڈز محکمہ داخلہ نے جاری کیے اور محکمہ فنانس نے آن لائن کر دیے۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص: بھارت کی سرسہ ائیر فیلڈ تباہ کر دی گئی
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق فنڈز عوامی فلاح کے لیے ایمرجنسی انتظامات کے لیے دیے گئے ہیں، موجودہ حالات کے پیش نظر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، سول ڈیفنس اور ریسکیو ہائی الرٹ پر ہیں اور افواج پاکستان بھارت کی جارحیت کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔
ترجمان نے گزارش کی ہے کہ عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف مستند ذرائع سے ملنے والی اطلاعات پر یقین کریں، غیر ضروری طور سفر سے گریز کریں اور گھروں میں رہیں۔ سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن بنیان مرصوص ایمرجنسی فنڈ محکمہ داخلہ پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص ایمرجنسی فنڈ محکمہ داخلہ پنجاب محکمہ داخلہ پنجاب
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں