سیز فائر کا اعلان پاکستان کی بڑی کامیابی کیسے ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت کی پاکستان میں جارحیت اور پھر پاکستان کے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد آج شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت سیز فائر کے لیے تیار ہوگئے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کرلیا اور ہفتہ 10 مئی کے شام ساڑھے 4 بجے پاکستان اور بھارت نے جنگ بند کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت فوری و مکمل جنگ بندی پر تیار ہوگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
وی نیوز نے دفاعی تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا سیز فائر یعنی کہ جنگ بندی کا اعلان پاکستان کی کامیابی ہے؟
ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد چشتی نے بھارت کل رات تک تو جنگ بندی کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھا لیکن جو گزشتہ رات پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارت پر جوابی کارروائی کی ہے اور جو بھارتی ایس 400 سسٹم تباہ کیا ہے اس کے بعد بھارت کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان بہت طاقتور ہے جس سے بھارت مجبور ہوا ہے کہ وہ جنگ بندی کا اعلان کرے بھارت تو کبھی بھی پاکستان کے ساتھ ملنے کے لیے یا بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن اس موقعے پر اور رات کو پاکستان کی جوابی کارروائیوں نے بھارت کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور مجبور کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کسی نیوٹرل مقام پر بیٹھ کر مذاکرات کرے۔
خالد چشتی نے کہا کہ یہ جو جنگ ہوئی ہے اس میں بھارت کے 5 بڑے طیارے تباہ ہوئے ہیں اس کے علاوہ بھارت کا مالی نقصان بھی کئی گنا زیادہ ہوا ہے اور جنگ کے آخر میں جو آخری پنچ مارے ہیں وہ بھی پاکستان نے مارے ہیں تو اس لیے یہ بھی پاکستان کی کامیابی ہے کہ پاکستان نے جیتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور دشمن کا نقصان بھی کہیں گناہ زیادہ کیا ہے۔
ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ فیصل شاہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا اعلان صرف افواج پاکستان کی کامیابی نہیں ہے بلکہ میں اس کو پوری قوم کی کامیابی تصور کرتا ہوں کیونکہ ہماری ہر لیول پہ کامیابی ہوئی ہے سیاسی، عسکری، ڈپلومیٹک، سوسائٹی اور میڈیا پر ہم سب نے مل کر کام کیا ہے اور اس مشکل وقت میں سے ہم سب سرخرو ہو کر نکلے ہیں، ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست فاش دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: پاک بھارت جنگ بندی: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا خیر مقدم
فیصل شاہ نے کہا کہ اس جنگ کے عرصے می ہم نے بڑے واضح الفاظ میں انڈیا کو بتایا ہے کہ ہمارے اندر اندرونی مداخلت آپ نے نہیں کرنی ہے، کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا کسی اور طرح سے ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرنے دی جائے گی، دوسرا یہ کہ ہر سال 2 سال 3 سال کے بعد بھارت ایک ڈرامہ رچاتا ہے اور یہ جھوٹ جھوٹا بیانیہ بناتا ہے، خود ہی مدعی بن جاتے ہیں خود ہی عدلیہ بن جاتے ہیں خود ہی وکیل ہیں اور خود ہی فیصلہ سنا کے پاکستان کے اوپر چڑھائی کر دیتے ہیں یہ اب ہم برداشت نہیں کریں گے اس کے بعد یہ قابل قبول نہیں ہو گا۔ تیسرا یہ کہ ہم نے بھارت کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کوئی کمزور ملک نہیں ہے، پاکستان کو آپ یہ نہ سمجھیں کہ پاکستان پر جس کا چڑھائی کا دل کرے گا اور پاکستان کچھ نہیں بولے گا، پاکستان ایک قوم ہے، ایک ملک ہے جو اپنی سالمیت میں جان پہ کھیل جائے گا، جو انڈیا کا نقصان ہم نے کیا ہے اب انڈیا کو سمجھ آ جانا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت کی قابلیت میں کیا فرق ہے اور اگر اب بھی نہ سمجھ آئے تو وہ دوبارہ ٹرائی کر کے دیکھ سکتے ہیں اس سے مزید زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت سیزفائر: دونوں ممالک نے جنگ بندی کی تصدیق کردی
سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار انصار عباسی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو دنیا بھر میں ایک کمزور ملک سمجھا جاتا تھا، تاہم بھارت پر گزشتہ رات پاکستان نے جو حملے کیے ہیں اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پاکستان کا دفاع اور پاک فضائیہ بھارت سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے اور اس کا ثبوت عالمی دنیا نے بھی دیکھ لیا ہے۔
انصار عباسی نے کہا کہ سیز فائر یا جنگ بندی کے اعلان سے پاکستان کو یہ فائدہ ہوگا کہ اب بھارت بھی پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہوگا جو کہ پہلے پاکستان سے نہ کوئی بات کرتا تھا اور نہ ہی کسی ایسے معاملے میں شامل ہوتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت جنگ بندی پاک بھارت سیزفائر ماہرین کا تبصرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ بندی پاک بھارت سیزفائر ماہرین کا تبصرہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی کا اعلان ہے کہ پاکستان بھی پاکستان پاکستان کی پاکستان کے کی کامیابی پاکستان کو پاک بھارت نے بھارت سیز فائر کہا کہ کے لیے ہوا ہے ہے اور کیا ہے کے بعد خود ہی
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔