افغان طالبان نے گانے اور آلات موسیقی بجانے کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
شمالی افغانستان میں طالبان حکام نے گانے اور آلات موسیقی بجانے کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کر لیا۔
نجی اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے 2021 میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلسل ایسے قوانین اور ضوابط نافذ کیے ہیں جو اسلامی قانون کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس میں عوامی مقامات ، براہ راست پرفارمنس سے لے کر اجتماعات ، ریستورانوں، کاروں یا ریڈیو اور ٹی وی پر موسیقی بجانا شامل ہے۔
صوبائی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کی رات شمالی صوبہ تخار کے دارالحکومت میں 14 افراد رات کے وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک رہائشی گھر میں جمع ہوئے جہاں وہ آلات موسیقی بجا رہے تھے اور گانے گا رہے تھے، جس سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موسیقی کو اخلاقی بدعنوانی اور عوام میں پریشانی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے، طالبان حکام نے برسر اقتدار آنے کے بعد میوزک اسکولوں کو بند کر دیا اور موسیقی کے آلات اور ساؤنڈ سسٹم کو توڑ دیا یا جلا دیا۔
شادی ہالوں کو موسیقی بجانے کی اجازت نہیں ہے البتہ خواتین کے علیحدہ حصے میں خفیہ طور پر موسیقی بجانے کی اجازت ہے، کئی افغان موسیقار طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد خوف کے باعث یا روزگار کی تلاش میں دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک افغانستان کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
طالبان حکام اپنی صلاحیتوں کو اسلامی شاعری اور بغیر موسیقی کے ترانوں میں استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، موسیقی کی یہ واحد شکل ہے جس کی 1996 سے 2001 کے دوران طالبان کے سابق دور میں اجازت تھی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز