پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے کل سے دوبارہ کھلیں گے، نوٹی فکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی 2025ء ) پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے کل سے دوبارہ کھلیں گے، جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے پیر سے کھول دیئے جائیں گے، پنجاب کے تمام سرکاری و نجی سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں معمول کے مطابق کل سے تدریسی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی، اس حوالے سے محکمہ تعلیم نے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کردی ہیں تاکہ کل سے درس و تدریس کا عمل مکمل طور پر بحال ہوسکے، اس مقصد کے لیے باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
(جاری ہے)
صوبائی وزیر تعلیم نے بتایا تھا کہ پنجاب بھر میں ہونے والے انٹرمیڈیٹ امتحانات بھی 2 روز کیلئے ملتوی کردیئے گئے، جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے پریکٹیکل بھی ملتوی ہوگئے تھے، جمعہ 9 اور ہفتہ 10 مئی کو ہونے والے امتحانات اور پریکٹیکل کا نیا شیڈول جلد جاری ہوگا، جب کہ 12 مئی پروز پیر سے صوبے میں تدریسی عمل کا دوبارہ معمول کے مطابق آغاز ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تعلیمی ادارے پنجاب بھر کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔