بھارتی پائلٹ پاکستان کی حراست میں ہے یا نہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کا کوئی پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں۔
پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس کوئی بھارتی پائلٹ موجود نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ پاکستانی فورسز نے بھارت کی ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرلیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، جنگ بندی کی خواہش کا اظہار بھارت کی جانب سے کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دو مقامات پر بھارت کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا، اس کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاکستان نے راجوری اور نوشہرہ میں ملٹری بریگیڈ کو تباہ کیا، اس کے علاوہ سورت گڑھ، سرسہ، آسم پور، اونتی پورہ، اودھم پور اور پٹھان کوٹ میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کامیابی سے اُڑی نیٹ ورکس اسٹیشن اور پونچھ ریڈار کو بھی نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ میں محدود صلاحیتوں کا استعمال کیا، جبکہ کچھ کو آئندہ کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی پائلٹ بھارتی جارحیت پاک بھارت کشیدگی پاک فضائیہ پاکستان بھارت جنگ پاکستان کی تحویل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی پائلٹ بھارتی جارحیت پاک بھارت کشیدگی پاک فضائیہ پاکستان بھارت جنگ پاکستان کی تحویل ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری وی نیوز کہ پاکستان نے نشانہ بنایا نے کہاکہ
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔