بھارتی پائلٹ کی گرفتاری اور حافظ عبدالرؤف کے مارے جانے کی خبر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں: ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ روز کی گئی پریس کانفرنس میں بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بھارتی پائلٹ کے پاکستان کی تحویل میں ہونے کی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں، یہ سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا ہے، اس میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے حافظ عبدالرؤف کے مارے جانے کے بھارتی پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کردیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا کی جانب سے حافظ عبدالرؤف کی موت کے جھوٹے دعوے کو بھی بے نقاب کیا، اور ثبوت کے طور پر حافظ عبدالرؤف کا تازہ ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، سیز فائر کیلئے بھارت نے امریکہ سے رابطہ کیا، ہماری جوابی کارروائی کے بعد ہی بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پیشہ ورانہ فوج رکھتا ہے، جو وعدوں کی پاسداری کرتی ہے، لیکن اگر دشمن نے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی تو ہم بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں موجود ائروائس مارشل اورنگزیب نے فضائی محاذ پر ہونے والے کامیاب آپریشنز کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو چھ صفر سے شکست دی، دشمن کے ڈرون سسٹمز کو جام کیا گیا، جبکہ براہموس میزائلوں کا رخ موڑنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ایک میزائل تو خود بھارت کے پڑوسی ملک میں جا گرا، جس سے بھارت نے اپنے ہمسایوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ پاک بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز نے انکشاف کیا کہ نومئی کو بھارتی نیوی کا وکرانت بحری جہاز آٹھ سے بارہ مگ 29 طیاروں کے ساتھ پاکستانی ساحل سے صرف 400 ناٹیکل میل دور تھا، لیکن ہماری مسلسل نگرانی اور تیاریوں کی وجہ سے کراچی کو لاحق ممکنہ خطرے کا مکمل تدارک کر لیا گیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مسئلہ کشمیر پر بھی دوٹوک مؤقف اپنایا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بار پھر خطے کے لیے فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، اس کا حل صرف کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، جنگ ان کے درمیان حماقت ہوگی۔ ہم کشیدگی کم کرنے والے لوگ ہیں، امن پسند ہیں، لیکن جارحیت کا جواب دینا بھی خوب جانتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران ”آپریشن بنیان مرصوص“ کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھی گئیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ پاکستان نے بھارت میں 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں دہلی کے قریب براہموس میزائل ذخیرہ گاہ بھی شامل تھی۔ انڈین فوج کو سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور کر دیا گیا، یہ ہماری جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ ہم نے عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، حملے انتہائی مہارت سے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور بھارتی میڈیا نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان کے کسی بھی حملے میں عام آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، جبکہ بھارت کی جانب سے صرف معمولی انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور ایک طیارہ متاثر ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی پوزیشن دوٹوک اور واضح ہے، ہم اس معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں، لیکن اگر بھارت نے خلاف ورزی کی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حافظ عبدالرؤف پریس کانفرنس بھارت نے کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔