Jang News:
2026-06-03@08:00:24 GMT

دریاؤں میں پانی کی صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

دریاؤں میں پانی کی صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری

— فائل فوٹو 

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک میں دریاؤں میں پانی کی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

واپڈا کے ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 18 ہزار 900 اور اخراج 82 ہزار کیوسک جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 44 ہزار 700 اور اخراج 28 ہزار کیوسک ہے۔

واپڈا کے ترجمان نے بتایا کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 38 ہزار 900 اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار کیوسک، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 400، اخراج 10 ہزار کیوسک جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد و اخراج 40 ہزار 600 کیوسک ہے۔

تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزر وائر میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ کتنا ہے؟

واپڈا کے ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد1لاکھ31 ہزار 100 اور اخراج 82 ہزار کیوسک ہے، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 52 ہزار 400 اور اخراج 32 ہزار کیوسک ہے۔

واپڈا کے ترجمان کے مطابق  تربیلا ڈیم میں آج پانی کی سطح 1461.

16 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 14 لاکھ 58 ہزار ایکڑ فٹ، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1143.20فٹ اور پانی کا ذخیرہ 14 لاکھ 51 ہزار ایکڑ فٹ جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کی سطح 647.50 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

واپڈا کے ترجمان نے بتایا کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 31 لاکھ 44 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے مقام پر پانی کی آمد واپڈا کے ترجمان پانی کا ذخیرہ ہزار ایکڑ فٹ میں پانی کی ہزار کیوسک اور اخراج کیوسک ہے

پڑھیں:

پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا